احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 57 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 57

all shades of opinion launched a movement۔" ترجمہ: جماعت احمدیہ کے خلاف تحریک نے 1948 ء کے وسط میں شکل پکڑنی شروع کی۔اور چند ماہ کے اندر اندر تمام خیالات کے علماء نے تحریک کا آغاز کر دیا۔ان فسادات پر تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ موجود ہے۔اس کا سرسری مطالعہ بھی اس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ یہ فسادات پنجاب تک محدود تھے۔بنگال اس تحریک سے تقریباً مکمل طور پر لاتعلق رہا تھا۔کراچی میں ایک حد تک یہ شورش پھیلانے کی کوشش کی گئی لیکن باقی سندھ میں اس شورش کا نام و نشان تک نہیں تھا۔سرحد میں بھی اس شورش نے کوئی زور نہیں پکڑا تھا۔جب مودودی صاحب نے قادیانی مسئلہ“ لکھا جو مارچ 1953ء میں یعنی فسادات کے زور پکڑنے سے کچھ روز قبل ہی شائع ہوا تو اس کی تمہید میں ہی وہ اس تحریک کی نا مقبولیت کا رونا ان الفاظ میں روتے نظر آتے ہیں۔وہ علماء کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کے بارے میں لکھتے ہیں : ہم محسوس کرتے ہیں کہ قادیانی مسئلہ کا بہترین حل ہونے کے باوجود تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک تعداد ابھی تک اس کی صحت اور معقولیت کی قائل نہیں ہو سکی اور پنجاب اور بہاولپور کے ماسوا دوسرے علاقوں خصوصاً بنگال میں ابھی عوام الناس بھی پوری طرح اس کا وزن محسوس نہیں کر رہے۔“ ( قادیانی مسئلہ اور اس کے مذہبی سیاسی اور معاشرتی پہلو۔مصنفہ ابوالاعلیٰ مودودی، ناشر اسلامک پبلیکیشنز مئی 2000 صفحہ 20) اور اس رسالہ میں بظاہر اس نامقبولیت کی وجہ یہ تحریر کرتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ اس مطالبے کو منوانے کے لئے عوام جس طریقہ سے مظاہرے کر رہے ہیں وہ شائستہ نہیں اور ملک کے تعلیم یافتہ اور سنجیدہ لوگ کسی طرح اسے 57