احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 41
جس طرح کچھ صدیاں قبل ایمسٹر ڈیم کے یہودیوں نے مشہور فلاسفر Spinoza کو یہودیت سے خارج قرار دے دیا تھا، اسی طرح مسلمانوں کو بھی اختیار ہے کہ وہ احمدیوں کو اسلام سے خارج قرار دیں۔اگر یہ مذہبی بحث تھی تو اس سلسلہ میں قرآن یا حدیث سے کوئی دلیل پیش کرنی چاہیے تھی۔یہ دلیل بہر حال قابل قبول نہیں ہوسکتی کہ کیونکہ ایمسٹر ڈیم کے یہودیوں نے Spinoza کو یہودیت سے خارج کر دیا تھا۔اس لئے ہمارا بھی یہ حق ہے کہ ہم احمدیوں کو اسلام سے خارج قرار دیں۔یہاں ایک اور بات قابل غور ہے کہ اس تحریر میں ایک ایسی عبارت بھی موجود ہے جس سے جماعت احمدیہ کے متعلق مولوی صاحبان کے وہ تمام بے سر و پا دعاوی غلط ثابت ہو جاتے ہیں جنہیں وہ اب تک پیش کرتے رہے تھے۔علامہ اقبال تحریر کرتے ہیں۔Western people who cannot but adapt a policy of non-interference in religion۔This liberal and indispensable policy in a country like India has led to the most unfortunate results۔(Traitors of Islam) an analysis of Qadiani issue (by Allama Muhammad Iqbal, compiled by Agha Shorish Kashmiri, 1973p37) یعنی مغربی احباب کے لئے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ مذہب کے معاملے میں عدم مداخلت کی پالیسی اپنائیں۔اگر چہ اس آزادانہ پالیسی کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا لیکن ہندوستان جیسے ملک میں اس کے نہایت ہی برے نتائج برآمد ہوئے۔ان الفاظ سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ علامہ اقبال اس خیال کا اظہار کر رہے ہیں کہ سلطنت برطانیہ کو ہندوستان میں مذہبی معامات میں مداخلت ضرور کرنی چاہیے اور احمدیت کی ترقی کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔1947ء کے بعد تو احمدیت کے مخالفین اس 41