احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 9 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 9

اہل اسلام ہو چکا ہے۔“ اشاعۃ السنہ نمبر 4 جلد 22 صفحہ 136 ) یہ امر قابل ذکر ہے کہ انگریز حکومت نے ان مولوی صاحبان کو جو کہ جماعت احمدیہ کی شدید مخالفت میں پیش پیش تھے انعام واکرام سے بھی نوازا تھا۔چنانچہ خود مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے اقرار کیا تھا کہ انگریز حکومت نے ان کی خدمات سے خوش ہو کر انہیں چار مربع زمین عطا کی ہے۔اس وقت ان کا رسالہ بانی سلسلہ احمدیہ کی مخالفت کے لئے وقف تھا۔انہوں نے یہ بھی تحریر کیا تھا کہ اس انعام کے نتیجہ میں ان کے ذاتی اخراجات کا باررسالہ پر نہیں رہے گا اور لکھا کہ یہ عطیہ الہیہ بواسطہ گورنمنٹ عالیہ بانی سلسلہ احمدیہ کو بہت ناگوار گزرا ہے۔(اشاعۃ السنہ نمبر 3 جلد 19 صفحہ 94و95) اُس دور میں مسلمان سیاستدانوں اور مسلم لیگ کے نظریات یہ تو اُس وقت کے علماء کا ذکر تھا۔قدرتی طور پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اُس دور میں مسلمانوں کے سیاستدان بھی موجود تھے اور مسلمانوں کی سیاسی تنظیمیں بھی کام کر رہی تھیں، کیا یہ سیاسی تنظیمیں انگریز حکومت کے خلاف کسی قسم کی جدو جہد کی ترغیب دلا رہی تھیں؟ اُس وقت مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت مسلم لیگ ہی تھی جیسا کہ ہر تنظیم اپنی ابتدا سے اپنے اغراض و مقاصد کا تعین کرتی ہے تا کہ اس پروگرام کے مطابق کام کر سکے۔چنانچہ آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام 1906ء میں عمل میں آیا اور اس کے بعد ایک کے بعد دوسری صوبائی مسلم لیگیں وجود میں آتی رہیں اور جب ڈھا کہ میں مسلم لیگ کا پہلا اجلاس ہوا تو اس اجلاس 9