احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 249 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 249

ہے۔اس میں ابن خلدون تحریر کرتے ہیں کہ خلافت راشدہ کے بعد بنو امیہ کے خلفاء کے لئے امیر المومنین کا لقب استعمال کیا گیا۔پھر جب بنو امیہ کو تخت سے محروم کر کے بنو عباس کی حکومت قائم ہوئی اور ابو العباس سفاح تخت نشین ہوا تو اسے بھی امیر المومنین کا لقب دیا گیا حالانکہ اُس کی سفا کی اور خونریزی ضرب المثل تھی اور اس کے بعد بنو عباس کے بادشاہ بھی امیر المومنین کہلاتے رہے۔اسی طرح شیعہ بادشاہوں نے بھی امیر المومنین کا لقب اختیار کیا۔جب عباسی سلطنت میں کمزوری شروع ہوئی اور فاطمی دولت قائم ہوئی تو اس کے بادشاہوں کو بھی امیر المومنین کہا گیا۔جب سپین میں بنوامیہ کی حکومت قائم ہوئی تو عبدالرحمن ثالث اور ان کے بعد ہونے والے بادشاہوں نے بھی امیر المومنین کا لقب اختیار کیا اور انہیں امیر المومنین کہا جا تا تھا۔مراکش و اندلس کے بادشاہ یوسف بن تاشفین کو بھی باقاعدہ امیر المومنین کا خطاب دیا گیا تھا۔اس کے علاوہ بہت سے بادشاہ امیر المومنین کہلاتے رہے۔( مقدمه تاریخ ابن خلدون، اردو تر جمه عبد الرحمن دہلوی ، ناشر الفصل اگست 1993 ، صفحہ 212 تا 215) خود امام ابو حنیفہ نے بادشاہ وقت کے لئے امیر المومنین کے الفاظ استعمال کئے۔حالانکہ وہ بادشاہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں شامل نہیں تھا۔( تذکرۃ الاولیاء مصنفه شیخ فریدالدین عطار ناشر الحمد پبلیکیشنز 2000 صفحہ 187) جماعت احمدیہ کے اشد ترین مخالف الیاس برنی صاحب چونکہ حیدر آباد دکن میں مقیم تھے اور کئی مولوی صاحبان کو نظام حیدر آباد سے وظیفہ ملتا تھا یا کم از کم کچھ ملنے کی امید ضرور ہوتی تھی۔اس لئے انہوں نے جب جماعت احمدیہ کے خلاف اپنی کتاب قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ لکھی تو اس کی تمہید میں نظام دکن کو امیر المومنین قرارد یا اور جوش میں یہ بھی لکھ گئے کہ حیدر آباد دکن عظمت رسول کا مسکن و مامن بنا ہوا ہے۔لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهُ ! یعنی ان 249