احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 248
سنیوں، شیعہ حضرات، عیسائیوں ، یہودیوں ، سکھوں اور ہندؤوں کے لئے ایسی کوئی پابندی نہیں تھی۔اور اس عجیب الخلقت قانون کے الفاظ ایسے ہیں کہ اگر کوئی احمدی ان اصطلاحات کا استعمال ایسے بزرگان کے لئے کرے جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں شامل نہ ہوں ، خواہ یہ بزرگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے قبل ہی گزر چکے ہوں تو بھی اس احمدی پر مقدمہ بنایا جا سکتا ہے اور اس قانون کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ قانون بنانے والوں کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء یا آپ کے صحابہ کے علاوہ کسی کے لئے امیر المومنین، خلیفہ المومنین، خلیفہ المسلمین یا رضی اللہ عنہ کے الفاظ کا استعمال جائز نہیں۔یہاں صرف یہ ذکر نہیں کہ احمدی یہ اصطلاحات اپنی مقدس ہستیوں کے لئے استعمال نہیں کر سکتے بلکہ یہ قانون بنایا گیا ہے کہ اگر احمدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور آپ کے خلفاء کے علاوہ کسی اور کے لئے یہ اصطلاحات استعمال کرے گا تو اسے سزادی جائے گی۔اس سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس قانون کو بنانے والے تاریخ اسلام کے متعلق بنیادی امور کا علم بھی نہیں رکھتے تھے۔امیر المومنین کی اصطلاح سب سے پہلے امیر المومنین کی اصطلاح کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے علاوہ تاریخ اسلام میں شروع سے لے کر اب تک یہ اصطلاح بہت سی شخصیات کے لئے استعمال کی گئی ہے بلکہ بہت سے جابر بادشاہوں کو بھی امیر المومنین کہا اور لکھا گیا ہے۔اس کا ثبوت معتبر حوالوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔وہ کون سا پڑھا لکھا شخص ہو گا جو ابن خلدون کے مقدمہ تاریخ سے واقف نہ ہو۔اس میں امیر المومنین کی اصطلاح اور استعمال پر قابل قدر تحقیق پر مشتمل ایک باب شامل کیا گیا 248