احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 187
نہیں لے سکے جو اُس وقت ایسے عہدے پر کام کر رہا تھا۔رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب 1953 ، صفحہ 262) لیکن جیسا کہ اوپر حوالے درج کر دیئے گئے ہیں یہی مطالبہ 1984ء میں بھی دہرایا جار ہا تھا لیکن اگر کوئی آدمی ریلوے سٹیشن پر کینٹین کا ٹھیکیدار بن جائے تعلیمی ادارے میں ورزش کرانے والا استاد بن جائے یا کسی ہسپتال کا ڈائر یکٹر آف سرجری بن جائے تو اس پر بھی احتجاج کیا جا رہا تھا۔اس قسم کے مطالبات میں جن کا مقصد حقوق کو سلب کرنا ہو بعض اصطلاحات کا مفہوم مبہم رکھا جاتا ہے تا کہ وقت کے ساتھ ان کو حسب منشا تبدیل کیا جاسکے۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ وسایا صاحب جو اس درخواست میں درخواست گزار (W۔P۔NO۔3862 / 2017) ہیں انہوں نے عدالت میں یہ استدعا بھی کی ہے "Direct the Respondent No۔3to bring on record a detailed report showing individuals/officers belonging to Qadiani group/Lahori group currently serving in the Federal Government with their respective portfolios” (page 34) ترجمه: مدعاعلیہ نمبر 3 کو ہدایت کی جائے کہ وہ افراد افسران جو کہ قادیانی / لاہوری گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور وفاقی حکومت میں ملازم ہیں، ان کی فہرست ان کے عہدوں سمیت تیار کر کے ریکارڈ پر رکھی جائے۔یہاں پر مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمام ایسے احمدیوں کی فہرست تیار کی جائے جو کہ وفاقی حکومت میں ملازم ہیں۔یہ فیصلہ بعد میں اپنی خواہش کے مطابق کیا جائے گا کہ کون کلیدی اسامی پر کام کر رہا ہے؟ اسی طرح درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ جب عدالت نے اس کا رروائی کے دوران establishment 187