احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 182
ہوئیں کہ مولانا جیل کی کوٹھڑی میں چیچنیں مار رہے ہیں کہ میری جنگ قادیانیوں کے ساتھ ہے۔اب اس ملک میں میں رہوں گا یا قادیانی رہیں گے۔پھر یہ خبر شائع ہوئی کہ انہیں وضو کرنے میں بھی دشواری پیش آرہی ہے اور صرف ڈبل روٹی کھا رہے ہیں یا دینی مطالعہ کر رہے ہیں۔کمزور بہت ہو گئے ہیں۔پھر یہ رونا بھی رویا گیا کہ مولانا اسلم قریشی صاحب کے اہل خانہ ان کی ضمانت اور رہائی کے لئے کوئی کوشش نہیں کر رہے بلکہ انہیں گھر سے کھانا بھی نہیں بھجوا ر ہے اور جیل کا کھانا کھانے پر مولانا تیار نہیں ہورہے۔جن چھوٹے چھوٹے بچوں کو وہ بے یار و مددگار چھوڑ کر گئے تھے ، ان کا یہ ردعمل سمجھنا مشکل نہیں۔ایک دن ایک اخبار نے یہ تشویشناک خبر شائع کی کہ جب مولانا کو کھانے کے لئے دال پیش کی گئی تو انہوں نے دال کھانے سے صاف انکار کر دیا اور فرمائش کی کہ مجھے مرغا یا گوشت پیش کیا جائے۔اتالمبا عرصہ پوری قوم کو دھوکہ دینے کے بعد بھی کیفیت یہ تھی کہ دال حلق سے نیچے نہیں اتر رہی تھی۔پھر یہ بھی انکشاف ہوا کہ مولانا نے ایک شادی ایران میں بھی کی تھی اور اس سے ایک بیٹی بھی تھی۔ان کی ایرانی بیوی کا نام فاطمہ تھا اور اس سے بیٹی کا نام سمیرا تھا۔پہلے ایک بیوی سے اولا د کو پاکستان میں چھوڑ کر بھاگے اور پھر ایک اور بیوی سے اولا دکو ایران میں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔( امروز 6 اگست 1988ء، امروز یکم اگست 1988ء ، مرکز 18 اگست 1988ء، نوائے وقت کیکم اگست 1988ء) جماعت احمدیہ کے مخالفین کو گرفتار کرنے کا مطالبہ اب اتنی شرمناک صورت حال سامنے آرہی تھی کہ علماء کے بعض طبقوں کی طرف سے اس واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ شروع ہو گیا۔چنانچہ امام اعظم کونسل نے اپنے ایک اجلاس میں مطالبہ کیا کہ اسلم قریشی کی گمشدگی اور پھر برآمدگی ایک سازش ہے۔چنانچہ ضروری ہے کہ 182