احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 181 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 181

میں بھرتی ہو گیا اور عراق کے خلاف جنگ میں بھی شامل ہوا۔اور پھر وہاں سردی لگنے لگی میرے پاؤں مشکل ہو جاتے تھے۔چنانچہ وہاں بھی نہیں ٹک سکا اور پاکستان واپس آ گیا۔ان سے دریافت کیا گیا کہ آپ کو اپنے اہل خانہ کا خیال نہ آیا کہ انہیں بھی اطلاع کر دیں تو موصوف فرمانے لگے کہ یہ بات میرے ذہن میں نہیں آئی کہ انہیں اطلاع کر دوں۔پھر یہ بھی فرمایا کہ میں اللہ کے بھروسے پر انہیں چھوڑ گیا تھا۔ایک دو سال پہلے میں نے اپنے بیٹے کو خط بھجوایا تھا۔ان کے صاحبزادے سے پوچھا کہ آپ نے وہ خط ایجنسیوں کو کیوں نہیں دکھایا ؟ تو وہ فرمانے لگے میں نے ایک ہینڈ رائیٹنگ کے ماہر کو دکھایا تھا تو اس نے کہا تھا کہ یہ اسلم قریشی صاحب کی تحریر نہیں ہے۔ان سے سوال کیا گیا کہ آپ کی گمشدگی کی وجہ سے لوگ ایک اقلیت کو مارنے پر تل گئے تھے کیا آپ کو یہ بات معلوم نہیں تھی؟ تو اسلم قریشی صاحب نے کہا کہ میرے خیال میں تو انہیں نیست و نابود ہی ہو جانا چاہیے۔انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ انہیں یقین تھا کہ اسلم قریشی صاحب قتل نہیں ہوئے اور کچھ عرصہ سے خبریں مل رہی تھیں کہ وہ ایران میں زندہ موجود ہیں۔دال کھانے میں دشواری (نوائے وقت 13 جولائی، 1988ء، جنگ 13 جولائی 1988 ء) اس خبر کا نشر ہونا تھا کہ جماعت کے مخالف حلقوں میں قیامت برپا ہوگئی۔اتنے برسوں سے یہ دعوے کئے جارہے تھے کہ اگر ہمارا یہ دعویٰ غلط نکلا تو ہمیں گولی مار دینا ، پھانسی چڑھا دینا۔اب کوئی گولی کھانے کو آگے نہ آیا۔کبھی کسی نے ایک بیان داغا اور کبھی دوسرا بیان داغا۔اب چلو بھر پانی بھی دستیاب نہیں ہو رہا تھا۔دوسری طرف اسلم قریشی صاحب کو چند روز جیل کی ہوا کھانی پڑی تو ان کو مظلوم بنانے کی ناکام سی کوششیں شروع ہوئیں۔یہ خبریں بھی شائع 181