احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 156
کی گئی ہے اور یہ بھی ذکر چل رہا ہے کہ یہ مشرک تم سے عہد کرتے ہیں اور پھر بار بار اپنے عہد توڑتے ہیں اور یہ بیان ہے کہ اگر پھر بھی وہ ایمان لے آئیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔لیکن اگر وہ بد عہدی کریں تو ان کے سرغنوں سے لڑائی کرو۔اس کے علاوہ بھی اگر مودودی صاحب کا نظریہ قبول کیا جائے تو بھی یہاں سرغنوں سے لڑائی کرنے کا حکم ہے ، ہر مرتد کو قتل کرنے کا جواز نہیں نکل سکتا۔( ارتداد کی سزا اسلامی قانون میں ، مصنفہ ابوالاعلیٰ مودودی ناشر مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی پاکستان جون 1951 صفحہ 10,9 ) یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تفسیر ابن کثیر میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت درج ہے کہ اس آیت میں خاص مخاطب مشرکین قریش ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی اس سے مراد مشرکین لیے تھے مرتدین نہیں لیے تھے۔( تفسیر ابن کثیر جلد اردو تر جمه از مولانامحمد جونا گڑھی، ناشر فقہ الحدیث پبلیکیشنز مارچ 2009 ، جلد 3 صفحہ 234) صرف ایک آیت لا إكراه في الدين ( دین میں جبر نہیں ) ہی ایسے تمام وساوس کی تردید کے لئے کافی ہے۔اور ایک اور آیت کریمہ ملاحظہ فرمائیں : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ امَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا (النساء: 138) ترجمہ: یقیناً جو لوگ ایمان لائے پھر انکار کر دیا۔پھر ایمان لائے۔پھر ا نکار کر دیا۔پھر کفر میں بڑھتے چلے گئے۔اللہ ایسا نہیں کہ انہیں معاف کر دے اور انہیں راستہ کی ہدایت دے۔اگر مرتد کی سزا موت تھی تو ایمان کے بعد انکار کرنے کے نتیجہ میں تو سزائے موت کا ذکر ہونا چاہیے تھا نہ کہ پھر ایمان لانے اور پھر انکار کرنے اور پھر کفر میں بڑھنے کا۔156