احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 155 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 155

قرآن کی دوسری صورت کی چو نویں آیت میں جزوی سا اشارہ کیا گیا ہے۔اس نتیجے کا اطلاق اسلام سے ارتداد پر نہیں ہو سکتا اور چونکہ قرآن مجید پر ارتداد پر سزائے موت کی کوئی واضح آیت موجود نہیں اس لئے کتا بچہ کے مصنف کی رائے بالکل غلط ہے۔“ ( رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب 1953 صفحہ 237 و 238) اب ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ مودودی صاحب نے اپنی کتاب میں قرآن مجید سے قتل مرتد کی کیا دلیل بیان کی ہے۔مودودی صاحب اپنی کتاب میں قتل مرتد کی دلیل کے طور پر یہ آیات پیش کرتے ہیں۔فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَنُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ۔(التوبة : 11) وَإِن تَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةً الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ۔(التوبة: 12) ترجمہ: پس وہ اگر تو بہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تو وہ دین میں تمہارے بھائی ہیں۔اور ہم ایسے لوگوں کی خاطر نشانات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو کفر کے سرغنوں سے لڑائی کرو۔یقیناً وہ ایسے ہیں کہ ان کی قسموں کی کوئی حیثیت نہیں ( پس ان سے لڑائی کرو۔اس طرح) ہو سکتا ہے وہ باز آجائیں۔مودودی صاحب نے اس آیت میں عہدوں اور قسموں کو توڑنے سے مراد مرتد ہونا لیا ہے جبکہ اس سے قبل کی آیات میں ان مشرکین کا ذکر چل رہا ہے جنہوں نے جزیرہ عرب میں مسلمانوں سے معاہدے کئے ہوئے تھے۔ان کے معاہدات کی مدت پوری کرنے کی ہدایت 155