احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 124
ترجمہ: اس کا نفرنس پر اپنے غیر مذہبی نظریہ کی وجہ سے کمیونزم کی غیر مہم مذمت کی گئی۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا افغانستان کی صورت حال پر بھی بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ جب ہم کمیونزم کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں وہ تمام ممالک ہوتے ہیں جن کو کمیونزم سے خطرہ ہے یا وہاں پر کمیونزم کا نفوذ ہو چکا ہے۔اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کا نفرنس میں سیکولر خیالات اور سوشلزم کو بھی مستر د کیا گیا ہے۔سعودی امام کعبہ کی طرف سے جنرل ضیاء کی حمایت جن دنوں میں یہ کا نفرنس منعقد کرائی گئی ، اُن دنوں میں پاکستان کے ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق صاحب کو بھی کئی چیلنجوں کا سامنا تھا۔وہ ایک سال قبل اس دعوے کے ساتھ آئے تھے کہ نوے دن میں انتخابات کرا کر رخصت ہو جائیں گے لیکن اب یہ آثار واضح نظر آرہے تھے کہ وہ اقتدار چھوڑنے کا کسی قسم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔اور اس غرض کے لئے وہ وعدہ شکنی پر وعدہ شکنی کر رہے تھے۔اُن دنوں بھٹو صاحب پر قتل کا مقدمہ چل رہا تھا۔اور سزائے موت کے خلاف اُن کی اپیل کی سماعت سپریم کورٹ میں ہورہی تھی۔جس روز اس کا نفرنس کا اختتام ہوا اس روز سپریم کورٹ میں بھٹو صاحب کے وکیل بیٹی بختیار صاحب نے اس اپیل کے میرٹ پر دلائل دینے شروع کئے تھے۔جنرل ضیاء صاحب بھٹو صاحب کی سیاسی مقبولیت سے خائف بھی تھے۔یہ بھی ظاہر تھا کہ ضیاء صاحب کی مقبولیت کا گراف جو کہ پہلے بھی نیچے تھا ، اب تیزی سے مزید گر رہا ہے۔اس وقت کے امام کعبہ بھی اس کا نفرنس کے اہم مندوب تھے۔اُنہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے لوگوں کو نصیحت کی کہ وہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء صاحب کے ہاتھ مضبوط کریں۔اپنی اس حمایت کو تقدس کا رنگ دینے کے لئے انہوں نے ایک تقریر میں کہا کہ وہ خانہ کعبہ میں جا کر جنرل ضیاء صاحب 124