احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 123
اس کا نفرنس کے بارے میں چند حقائق عدالتی فیصلہ میں رابطہ عالم اسلامی کی اس کا نفرنس کی مندرجہ بالا قرارداد کا حوالہ دیا گیا ہے۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اُس پس منظر کا جائزہ لیا جائے جس میں یہ کانفرنس منعقد ہورہی تھی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کانفرنس کا افتتاح جنرل ضیاء الحق صاحب نے کیا تھا اور ظاہر ہے کہ اُس دور میں اُن کی مرضی کے بغیر پاکستان میں یہ کانفرنس اس قسم کی قرارداد منظور نہیں کر سکتی تھی اور اس کا نفرنس کی صدارت پاکستان کے وزیر برائے مذہبی امور و قانون اے کے بروہی صاحب کر رہے تھے۔انہوں نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا: "Decisions of the conference will be followed by vigorous action۔" ترجمہ: اس کانفرنس میں ہونے والے فیصلوں پر بھر پور عمل کیا جائے گا۔اور یہ بھی اعلان کیا گیا کہ ایشیا کے لئے کا نفرنس کا ریجنل سینٹر کراچی (پاکستان) میں قائم کیا جائے گا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں رابطہ عالم اسلامی کی یہ کا نفرنس ایک ایسے موقع پر ہو رہی تھی جبکہ پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان میں اہم تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں جو کہ امریکہ کے لئے بہت پریشانی کا باعث تھیں۔اپریل 1978 ء میں افغانستان میں نور محمد ترکئی صاحب کی قیادت میں کمیونسٹ گروہ نے صدر داؤد کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا تھا اور ظاہر ہے کہ ایشیا کے اس اہم حصہ میں کمیونزم کا نفوذ امریکہ، برطانیہ اور ان کے دیگر اتحادیوں کے لئے پریشانی کا باعث تھا۔شاید اسی لئے اس کا نفرنس کے اختتام پر رابطہ عالم اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ محمد صفوات نے اعلان کیا: "Communism with its irreligious doctrine came in for unequivocal condemnation۔" 123