احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 94
جماعت احمدیہ پر الزام لگانے والے Thrasymachus کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جیسا کہ ہم پہلے نشاندہی کر چکے ہیں کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب کی وابستگی جماعت اسلامی سے تھی اور انہوں نے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر ایک مرتبہ انتخاب بھی لڑا تھا لیکن کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔چونکہ ماضی قریب میں 1971ء کے دوران جماعت اسلامی کے اراکین کے کردار پر سوال اُٹھایا گیا ہے اور ان میں سے بعض کو بنگلہ دیش میں سزا بھی ہوئی ، شاید اس لئے بھی اب ان کے حلقے کی طرف سے 1971ء کے سانحے کا الزام جماعت احمدیہ کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہو۔انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ یہ واضح کر دیا جائے کہ جماعت اسلامی کی طرف سے ان الزامات کو غلط اور سیاسی انتقام قرار دیا گیا ہے۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس بارے میں اصل حقائق کیا تھے ؟ اس ذکر کا مقصد کسی ایک کے موقف کو صحیح یا غلط قرار دینا نہیں تھا لیکن یہ پس منظر ذہن میں ہونا ضروری ہے۔اگر ہم کچھ دیر کے لئے اس عدالتی فیصلہ کو فراموش بھی کر دیں اور صرف جماعت احمدیہ کی عمومی مخالفت کی طرف توجہ کریں تو یہ ظاہر ہے کہ اس کی نفسیات سمجھنی ضروری ہے۔کوئی انسان یا انسانوں کا کوئی گروہ جب اعتدال اور توازن کے راستے سے ہٹ جاتا ہے تو اس کی کیفیت نفسیاتی بیماری کی ہوتی ہے۔اب پہلے کی نسبت نفسیات کے علم نے کافی ترقی کی ہے اور بہت سی نفسیاتی بیماریوں کی علامات کے بارے میں نئے نئے حقائق سامنے آرہے ہیں ان میں سے ایک بیماری Narcissistic High Conflict Personality ہے۔نرگسیت یا خود پسندی کا پہلو تو یہ ہے کہ اس کیفیت کے شکار اشخاص سمجھتے ہیں کہ اُن میں وہ خوبیاں ہیں جو در حقیقت موجود نہیں ہوتیں لیکن وہ خود اپنے دل میں اپنا ایک فرضی مقام 94