احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 86 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 86

ہو گیا۔اول تو اس مقدمہ میں یہ موضوع غیر متعلقہ تھا لیکن اگر اس موضوع پر تبصرہ کرنا تھا تو یہ بات کیوں فراموش کر دی گئی کہ اس سانحہ کی تحقیقات کے لئے ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا جس کی صدارت پاکستان کے چیف جسٹس جناب حمود الرحمن صاحب کر رہے تھے اور اب تو اس کی رپورٹ شائع بھی ہو چکی ہے۔اس کا حوالہ دینے کی بجائے ایک غلط مفروضے کو بنیاد بنا کر نتیجہ نکالنے کی کوشش کیوں کی گئی؟ اس کمیشن کے صدر جناب حمود الرحمن صاحب کا تعلق بھی بنگال سے تھا۔اس کمیشن کی رپورٹ کا ایک باب 1960ء کی دہائی کے سیاسی اور اقتصادی حالات کے تجزیہ کے بارے میں ہے۔اس میں یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ اس دہائی میں کیا حالات پیدا ہوئے کہ آخر میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا۔اس میں سیاسی اور آئینی غلطیوں کا جائزہ بھی لیا گیا ہے اور اقتصادی عدم توازن کے الزام کا ذکر بھی کیا گیا ہے لیکن نتیجہ یہی نکالا ہے کہ اس دہائی میں ہونے والی غلطیاں سیاسی نوعیت کی تھیں اقتصادی نہیں تھیں۔یہ دور اقتصادی ترقی کا دور تھا۔اس باب کے آخر میں یہ نتیجہ درج ہے: "It was a period of comparative stability and considerable development in all fields even in East Pakistan۔It was a period in which Pakistan had grown in no small measure in stature and acquired prestige amongst the Nations of the world but unfortunately lacked political maturity," (The Report of the Hamoodur Rahman Commission, published by Vanguard, p 50) ترجمه: مشرقی پاکستان میں بھی یہ دور نسبتاً استحکام اور تمام میدانوں میں خاطر خواہ ترقی کا دور تھا۔اس دور میں پاکستان کی اہمیت میں جو اضافہ ہوا وہ ہر گز کوئی معمولی اضافہ نہیں تھا اور اقوام عالم میں پاکستان کو ایک وقار حاصل ہوا مگر بدقسمتی سے سیاسی بالغ نظری کا فقدان تھا۔86