اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 62
دوسرا استنباط اس واقعہ سے یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے پاس حضرت عثمان اور ان کے عمال کے برخلاف ایک بھی واجبی شکایت نہ تھی کیونکہ اگر واقعہ میں کوئی شکایت ہوتی تو ان کو جھوٹ بنانے کی کیا ضروری تھی۔جھوٹی شکایات کا بنانا ہی اس امر کا کافی ثبوت ہے کہ ان لوگوں کو حقیقی شکایات نہ تھیں۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اشتر کے آنے سے پہلے جب یزید نے جلسہ کیا ہے تو اس وقت صرف چند سپاہی لوگ ہی اس جلسہ میں شریک ہوئے تھے اور قعقاع کے روکنے پر یہ لوگ ڈر گئے اور جلسہ کرنا انہوں نے موقوف کر دیا تھا۔مگر اسی مہینہ کے اندر اندر ہم دیکھتے ہیں کہ اشتر کے جھوٹ سے متاثر ہو کر کوفہ کے عامتہ الناس کا ایک کثیر گروہ ان لوگوں کے ساتھ مل کر سعید کو روکنے اور دوسرے والی کے طلب کرنے کے لئے کوفہ سے نکل پڑا۔یہ امر اس بات کی شہادت ہے کہ پہلے لوگ ان کی باتوں میں نہ آتے تھے۔کیونکہ ان کے پاس ان کو جوش دلانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔اشتر نے جب ایسا ذریعہ ایجاد کیا جو لوگوں کی غیرت کو بھڑکانے والا تھا تو عامتہ الناس کا ایک حصہ فریب میں آگیا اور ان کے ساتھ مل گیا۔اس فتنہ کے اظہار سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ان لوگوں کی اصل مخالفت حضرت عثمان سے تھی نہ کہ ان کے عمال سے۔کیونکہ ابتداء یہ لوگ آپ کے ہی خلاف جوش بھڑکانا چاہتے تھے مگر جب دیکھا کہ لوگ اس بات میں ان کے شریک نہیں ہو سکتے بلکہ ان کی مخالفت پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔تب امراء کے خلاف جوش بھر کا نا شروع کر دیا۔ایک جماعت کثیر کے ساتھ مدینہ کی طرف رخ کرنا بھی ثابت کرتا ہے کہ ان کی نیت حضرت عثمان کے متعلق اچھی نہ تھی۔سعید بن العاص کے آزاد کردہ غلام کو بلا وجہ قتل کر 62