اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 50
صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لشکر عظیم کی سپہ سالاری عطا کی جسے آپ اپنی مرض موت میں تیار کرا رہے تھے اور اس میں حضرت عمر جیسے بڑے بڑے صحابیوں کو آپ کے ماتحت کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انتخاب صرف دلداری کے طور پر ہی نہ تھا بلکہ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ وہ بڑے بڑے کاموں کے اہل تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے قدر محبت کرتے کہ دیکھنے والے فرق نہ کر سکتے تھے کہ آپ ان کو زیادہ چاہتے ہیں یا حضرت امام حسن کو۔محمد بن مسلم بھی جن کو کو نہ بھیجا گیا جلیل القدرصحابہ میں سے تھے ย اور صحابہ میں خاص عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور نہایت صاحب رسوخ تھے۔حضرت عبد اللہ بن عمر" جن کو شام کی طرف روانہ کیا گیا ایسے لوگوں میں سے ہیں جن کے تعارف کی ضرورت ہی نہیں۔آپ سابق بالعبد مسلمانوں میں سے تھے۔اور زہد و تقوی اللہ میں آپ کی وہ شان تھی کہ اکا برصحابہ بھی آپ کی ان خصوصیات کی وجہ سے آپ کا خاص ادب کرتے تھے۔حضرت علی کے بعد اگر کسی صحابی پر صحابہ اور دوسرے بزرگوں کی نظر خلافت کے لئے پڑی تو آپ پر پڑی۔مگر آپ نے دنیا سے علیحدگی کو اپنا شعار بنا رکھا تھا۔شعائر دینیہ کے لئے آپ کو اس قدر غیرت تھی کہ بعض دفعہ آپ نے خود عمر بن الخطاب سے بڑی سختی سے بحث کی۔غرض حق گوئی میں آپ ایک کھینچی ہوئی تلوار تھے۔آپ کا انتخاب شام کے لئے نہایت ہی اعلیٰ انتخاب تھا۔کیونکہ بوجہ اس کے کہ حضرت معاویہؓ دیر سے شام کے حاکم تھے اور وہاں کے لوگوں پر ان کا بہت رُعب تھا اور بوجہ ان کی ذکاوت کے ان کے انتظام کی تحقیق کرنا کسی معمولی آدمی کا کام نہ تھا۔اس جگہ کسی دوسرے آدمی کا بھیجا جانا فضول تھا۔اور لوگوں کو اس کی تحقیق پر تسلی بھی نہ ہوتی مگر آپ کی 50