اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 53 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 53

53 کے منہ سے نکلے ہیں۔اور سوچنے کے لائق ہے کہ ان کے کیا کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔کیا اس قسم کے الفاظ کبھی کسی مسلمان کے منہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت نکل سکتے ہیں۔کیا دنیا میں اس سے سخت تر الفاظ ممکن ہیں جو پادری صاحبوں نے اس پاک نبی کے حق میں استعمال۔کئے ہیں جس کی راہ میں کروڑ با خدا کے بندے فدا شد ہیں اور وہ اس نبی سے سچی محبت رکھتے ہیں جس کی نظیر دوسری قوموں میں تلاش کرنا لا حاصل ہے۔پھر باوجود ان گستاخیوں ان بد زبانیوں اور ان ناپاک کلمات کے پادری صاحبان ہم پر الزام سخت گوئی کار کھتے ہیں۔یہ کس قدر ظلم ہے۔ہم یقیناً جانتے ہیں کہ ہر گز ممکن نہیں ہماری گورنمنٹ عالیہ ان کے اس طریق کو پسند کرتی ہو یا خبر پا کر پھر پسند کرے اور نہ ہم باور کر سکتے ہیں کہ آئندہ پادریوں کے کسی ایسے بے جا جوش کے وقت کہ جو کلارک کے مقدمہ میں ظہور میں آیا ہماری گورنمنٹ پادریوں کو ہندوستان کے چھ کروڑ مسلمانوں پر ترجیح دیکر کوئی رعایت ان کی کرے گی۔اس وقت جو ہمیں پادریوں اور آریوں کی بدزبانی پر ایک لمبی فہرست دینی پڑی وہ صرف اس غرض سے ہے کہ تا آئندہ وہ فہر ست کام آئے اور کسی وقت گورنمنٹ عالیہ اس فہرست پر نظر ڈال کر اسلام کی ستم رسیدہ رعایا کو رحم کی نظر سے دیکھے۔اور ہم تمام مسلمانوں پر ظاہر کرتے ہیں کہ گورنمنٹ کو ان باتوں کی اب تک خبر نہیں ہے کہ کیونکر پادریوں کی بدزبانی نہایت تک پہنچ گئی ہے۔اور ہم دلی یقین سے جانتے ہیں کہ جس وقت گورنمنٹ عالیہ کو ایسی سخت زبانی کی خبر ہوئی تو وہ ضرور آیندہ کے لئے کوئی احسن انتظام کرے گی۔( بحوالہ مجموعہ اشتہارات جلد سوم مطبوعہ لندن اپریل ۱۹۸۶ء صفحه ۷۹ تا ۸۱) یہ وہ وجوہات تھیں جس بنا پر تعزیرات ہند میں تو بین رسالت پر قانون بنائے جانے کی