اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 44 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 44

44 جبکہ خود اس کی کتاب یا اس کے پیشوا پر وہی اعتراض ہو سکتا ہو۔دوسری شرط یہ ہے کہ ایسے اعتراض سے بھی ممانعت فرما دی جائے جو ان کتابوں کی بنا پر نہ ہوجن کوکسی فریق نے اپنے مسلم اور مقبول کتابیں ٹھہرا کر ان کی ایک چھپی ہوئی فہرست اپنے ایک کھلے کھلے اعلان کے ساتھ شائع کر دی ہو۔اور صاف اشتہار دیدیا ہو کہ یہی وہ کتابیں ہیں جن پر میرا عقیدہ ہے اور جو میری مذہبی کتابیں ہیں۔سو ہم تمام درخواست کنندوں کی التماس ہے کہ ان دونوں شرطوں کے بارے میں ایک قانون پاس ہو کر اس کی خلاف ورزی کو ایک مجرمانہ حرکت قرارد یا جاوے اور ایسے تمام مجرم دفعہ ۲۹۸ تعزیرات ہند یا جس دفعہ کی رو سے سر کارمناسب سمجھے سزا یاب ہوتے رہیں اور جن ضرورتوں کی بنا پر ہم رعا یا سر کار انگریزی کی اس درخواست کے لئے مجبور ہوئے ہیں وہ تفصیل ذیل ہیں۔اول یہ کہ ان دنوں میں مذہبی مباحثوں کے متعلق سلسلہ تقریروں اور تحریروں کا اس قدر ترقی پزیر ہو گیا ہے اور ساتھ ہی اس کے اس قدر سخت بدزبانیوں نے ترقی کی ہے کہ دن بدن باہمی کینے بڑھتے جاتے ہیں اور ایک زور کے ساتھ مخش گوئی اور ٹھٹھے اور ہنسی کا دریا بہہ رہا ہے۔اور چونکہ اہل اسلام اپنی برگزیدہ نبی اور اس مقدس کتاب کے لئے جو اس پاک بنی کی معرفت اُن کو ملی نہایت ہی غیرت مند ہیں۔لہذا جو کچھ دوسری قومیں طرح طرح کے مفتر یانہ الفاظ اور رنگارنگ کی پُر خیانت تحریر اور تقریر سے ان کے نبی اور ان کی آسمانی کتاب کی تو بین سے اُن کے دل دکھا رہے ہیں یہ ایک ایسا زخم ان کے دلوں پر ہے کہ شاید ان کے لئے اس تکلیف کے برابر دنیا میں اور کوئی بھی تکلیف ہو۔اور اسلامی اصول ایسے مہذبانہ ہیں کہ یادہ گوئی کے مقابل پر مسلمانوں کو یاوہ گوئی سے روکتے ہیں۔مثلاً ایک معترض جب ایک بے جا الزام مسلمانوں کے نبی علیہ السلام پر کرتا اور ٹھٹھے اور نہی اور ایسے الفاظ سے پیش آتا ہے جو بسا