اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 384
384 لتا ڑا ہے اور انہیں مباحثہ اور مباہلہ کا چیلنج دیا ہے تو ہندوستان کے اخبارات بھی شور مچانے لگ جائیں گے اور وہ بھی وہی باتیں شائع کرنے لگ جائیں گے جو یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں شائع ہو رہی ہوں گی۔اور اس سے ہندوؤں کے کان کھڑے ہو جائیں گے اور وہ سمجھ لیں گے کہ احمدی پیچھا نہیں چھوڑا کرتے۔اگر ان کے رسول پر حملہ کیا گیا تو اس وقت تک حملہ کرنے والوں کو نہیں چھوڑتے جب تک انہیں گھر نہ پہنچا لیں۔اس طرح آئندہ کے لئے رسول کریم ی کی ہتک کرنے اور مسلمانوں پر حملہ کرنے میں احتیاط سے کام لیں گے۔“ 66 تو ریخ احمدیت جلد 19 صفحہ 216) جولائی اگست 1950ء میں شہورہ کے ایک رومن کیتھولک پادری نے اسلام اور آنحضرت علیم کے خلاف ایک رسالہ "KIONGOZI" شائع ہوا جس میں اسلام اور رسول مقبول ملی کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا تھا۔اس رسالہ کا جواب مبلغ اسلام مکرم مولانا جلال الدین صاحب قمر اور مکرم امری عبیدی صاحب نے راتوں رات تیار کر کے شائع کر دیا جس میں پادریوں کے الزامات کا مختصر جواب دیا گیا تھا اور انہیں مناظرہ کی دعوت دی گئی تھی اس کی اشاعت پر عیسائیوں میں کھلبلی مچ گئی اور مسلمانوں کی طرف سے خوشی اور مسرت کے خطوط آنے شروع ہو گئے۔اس موقع پر زنجبار کے مشہور عالم شیخ عبد اللہ صالح نے مولونا جلال الدین صاحب قمر کو لکھا۔اگر چہ میں احمدیوں کی بعض باتوں سے اتفاق نہیں رکھتا لیکن اللہ تعالی اور اس کے مقدسوں کے سامنے اس بات کا اعتراف کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ احمدیوں کے اندر حفاظت اسلام کے لئے جو غیرت ہے وہ مجھے بے حد محبوب ہے، احمدی قطعاً اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے کہ اسلام کے خلاف کچھ لکھایا کہا جائے اور جب تک اس کا شافی جواب دے کر دشمن اسلام کو خاموش نہ