اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 383
383 اور ان دو باتوں پر ان کی بنیاد رکھتی۔محض دکھنے پر بنیاد نہ رکھتی۔“ تاریخ احمدیت جلد 9 صفحہ 239-240) اسی طرح سن 1956 ء میں ہندوستان میں ایک کتاب شائع ہوئی جو مذہبی راہنماؤں کی سوانح عمریاں“ کے عنوان سے تھی۔دراصل یہ کتاب کافی عرصہ پہلے امریکہ میں شائع ہوئی تھی جس میں رسول کریم علیم کی ہتک کی گئی تھی۔اس کتاب کی اشاعت پر ہندوستان کے مسلمانوں میں جوش پیدا ہو گیا مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا اس کتاب کا مترجم ایک ہندو تھا اس لئے ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے حکومت نے اگر چہ اس کتاب پر پابندی عائد کردی لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سلسلہ میں فرمایا اس کتاب پر صرف پابندی لگ جانے پر ہمیں بیٹھ نہیں جانا چاہئے اس سے مخالف یہ خیال کریں گے کہ چونکہ مسلمانوں کے پاس ان اعتراضات کا جواب دینے کی طاقت نہیں ہے اس لئے اس پر پابندی لگوائی گئی ہے۔اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس کا جواب لکھا جائے اور اس جواب کو انگریزی زبان میں بھی امریکہ میں شائع کیا جائے اور ہندوستان میں بھی اس کی اشاعت ہو۔پہلے انہیں مباحثہ کا چیلنج کیا جائے اگر وہ اس کے لئے تیار ہوں تو انہیں مباہلہ کا چیلنج کیا جائے۔اسی طرح آپ نے فرمایا کہ اس کتاب کا جواب حقیقی اور الزامی دونوں رنگ میں دیا جائے اور اس میں ہندو مذہب کے پول بھی کھولے جائیں تا کہ انہیں بھی یہ معلوم ہو کہ اگر وہ ہماری طرف اینٹ پھینکیں گے تو انہیں بھی پتھر کھانے ہونگے۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ہندوستان بے شک آزاد ہو گیا ہے مگر اب بھی وہ یورپ کی طرف میلان رکھتا ہے۔اگر یورپ اور امریکہ میں شور مچ گیا کہ محمد رسول اللہ صلیم پر حملہ کرنے والوں کو احمدیوں نے خوب