اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 347
347 اگر ڈ وئی اپنے دعوی میں سچا ہے اور در حقیقت یسوع مسیح خدا ہے تو فیصلہ ایک ہی آدمی کے مرنے سے ہو جائے گا۔کیا حاجت ہے کہ تمام ملکوں کے مسلمانوں کو ہلاک کیا جائے لیکن اگر اس نے نوٹس کا جواب نہ دیا اور یا اپنے لاف و گزاف کے مطابق دعا کر دی اور پھر دنیا سے قبل میری وفات کے اٹھایا گیا تو یہ تمام امریکہ کے لئے ایک نشان ہوگا۔مگر شرط یہ ہے کہ کسی کی موت انسانی ہاتھوں سے نہ ہو بلکہ کسی بیماری سے یا بجلی سے یا سانپ کے کاٹنے سے یا کسی درندہ کے پھاڑنے سے ہوا اور ہم اس جواب کے لئے ڈوئی کو تین ماہ تک مہلت دیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ خدا سچوں کے ساتھ ہو۔آمین ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ 568-570) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس طریق فیصلہ کا ڈوئی نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ اسلام کے خلاف اور زیادہ بدزبانی شروع کر دی۔اور اپنے پر چہ ستمبر 1902ء میں لکھا کہ۔”میرا کام یہ ہے کہ میں مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب سے لوگوں کو جمع کروں اور مسیحیوں کو اس شہر اور دوسرے شہروں میں آباد کروں یہاں تک کہ وہ دن آجائے کہ مذہب محمدی دنیا سے مٹادیا جائے“ (حقیقت الوحی تتمہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 509) اس پر حضرت مسیح موعود علیہ اسلام نے مضمون مباہلہ کوامریکہ کے مشہور و معروف اخبارات میں شائع کروادیا جس سے امریکہ اور یورپ میں اس کی دھوم مچ گئی۔ان میں سے بعض اخبارات نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور قبرمسیح کی فوٹو بھی شائع کیں۔اس اشتہار کو شائع ہوئے ایک سال گرزر جانے پر بھی ڈوئی نے کوئی جواب نہ دیا جبکہ اخبارات نے بار بار کی اشاعت میں ڈوئی کو شرم بھی دلائی لیکن نہ تو اس نے چیلنج کو قبول کیا اور نہ ہی زبان سے کوئی لفظ ہی اس سلسلہ میں نکالا لیکن بد زبانی سے بھی باز نہ آتا تھا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے