اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 342
342 میں جواب دینے میں تیرے ساتھ ہوں۔تب مجھے اس مبشر وحی سے بہت خوشی پہنچی کہ جواب دینے میں میں اکیلا نہیں۔سو میں اپنے خدا سے قوت پا کر اٹھا اور اس کی روح کی تائید سے میں نے اس رسالہ کو لکھا اور جیسا کی خدا نے مجھے تائید دی میں نے یہی چاہا کہ ان تمام گالیوں کو جو میرے نبی مطاع کو اور مجھے دی گئیں نظر انداز کر کے نرمی سے جواب لگوں اور پھر یہ کاروبار خدا تعالیٰ کے سپرد کردوں۔(نسیم دعوت روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 364 جب یہ کتاب پنڈت رام بھجدت صاحب پریذیڈنٹ آریہ پرتی ندھی سبھا پنجاب کے پاس قادیان میں کئے جانے والے جلسہ میں پہنچی تو انہوں نے اپنی تقریر کے دوران فرمایا۔اگر وہ مجھ سے اس بارے میں گفتگو کرتے تو جو کچھ نیوگ کرنے کے فائدے ہیں سب ان کے پس بیان کرتا۔“ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آریہ سماج کے ایک ذمہ دارلیڈر کی یہ بات پہنچی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھارچ 1903ء کو ایک مختصر سا رسالہ سناتن دھرم کے نام سے شائع فرمایا۔اس کے ذریعہ حضور نے نیوگ کی بناء پر آریہ سماج کی خوب قلعی کھولی اور اس کے مقابل پر اسلام کی تعلیم بیان فرمائی۔قادیان کے آریہ اور ہم" کی تصنیف قادیان سے آریوں کا ایک اخبار شبھ چنتک نکلا کرتا تھا اور اس کا کام ہی یہ تھا کہ یہ اسلام اور آنحضرت علی کے خلاف گندی اور ناشائستہ زبان استعمال کرے۔اس اخبار میں لالہ ملا وامل اور لالہ شرمپت کی طرف منسوب کر کے ایک اعلان شائع کیا گیا تھا کہ ہم مرزا صاحب کے کسی بھی نشان کے گواہ نہیں ہیں۔اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ سالانہ 1906ء میں یہ اعلان فرمایا تھا کہ لالہ ملا وامل اور لالہ شرمیت میرے