اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 341
341 ”میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اسلام ایسے بدیہی طور پر سچا ہے کہ اگر تمام کفار روئے زمیں دعا کرنے کے لئے ایک طرف کھڑے ہوں اور ایک طرف صرف میں اکیلا اپنے خدا کی جناب میں کسی امر کے لئے رجوع کروں تو خدا میری ہی تائید کرے گا۔مگر نہ اس لئے کہ سب سے میں ہی بہتر ہوں بلکہ اس لئے کہ میں اس کے رسول پر دلی صدق سے ایمان لایا ہوں۔“ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 339-340) نسیم دعوت اور سناتن دھرم کتابوں کی تصنیف 1903ء کی بات ہے کہ بعض تو مسلم حضرات نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مشورہ کے بغیر ہی اپنی قوم آریہ سماج والوں کی ہمدردی اور خیر خواہی کی خاطر ایک اشتہار شائع کیا۔اس کے جواب میں آریہ سماج والوں نے بھی ایک اشتہار قادیانی پوپ کے چیلوں کی ایک ڈینگ کا جواب“ شائع کیا۔اس اشتہار میں بھی آریہ سماج والوں نے اپنی عادت کے طور پر آنحضرت علی ایم پر اعتراضات کرتے ہوئے سخت تو بین کی اور گالیاں دیں اسی طرح آپ کی جماعت کے آء معززین کے لئے بھی توہین آمیز الفاظ استعمال کئے گئے اور گالیاں دی گئیں۔اسی طرح ایک جلسہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اگر چہ کئی مرتبہ ان کے اعتراضات اور گالیوں کا جواب دے چکے تھے اس لئے پہلے تو آپ نے ارادہ فرمایا کہ اس کو جواب نہ دیا جائے لیکن وحی خاص سے آپ کو اس کا جواب لکھنے کا حکم ہوا۔چنانچہ اس کے جواب میں آپ نے «نسیم دعوت تصنیف فرمائی۔اس میں ان کے اعتراضات کے جوابات کے ساتھ ساتھ تمام مذاہب عالم پر اسلام کی خوبیوں کو خوب کھول کھول کر بیان فرمایا۔نیز فرمایا۔خدا تعالیٰ نے اپنی وحی خاص سے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اس تحریر کا جواب لکھ اور