اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 32
32 دکھاوے اور ایسی کتابوں کے حوالے پیش کرے جو اس فریق کے نزدیک مسلم نہیں ہیں۔یا ایسے اعتراض کرے جو خود اپنے دین کی تعلیم پر بھی وارد ہوتے ہیں۔چونکہ اب تک مناظرات و مباحثات کے لئے کوئی ایسا قاعدہ باہم قرار یافتہ نہیں تھا جس کی پابندی یاوہ گولوگوں کو ان کی فضول گوئی سے روکتی لہذا اپادریوں میں سے ایک پادری عمادالدین و پادری تھا کرو اس و پادری فنڈل صاحب وغیرہ صاحبان اور آریہ صاحبوں میں سے منشی کنہیہ لال الکھ دھاری اور منشی اندر من مراد آبادی اور لیکھرام پیشاوری نے اپنا یہی اصول مقرر کر لیا کہ ناحق کے افتراؤں اور بے جار وایتوں اور بے بنیاد قصوں کو واجبی اعتراضات کی مدافعت میں پیش کیا۔مگر اصل قصور تو اس میں پادری صاحبان کا ہے۔کیونکہ ہندوؤں نے اپنے ذاتی تعصب اور کینہ کی وجہ سے جوش تو بہت دکھایا مگر براہ راست اسلام کی کتابوں کو وہ دیکھ نہ سکے۔وجہ یہ کہ باعث جہالت اور کم استعدادی دیکھنے کا مادہ نہیں تھا۔سو انہوں نے اپنی کتابوں میں پادریوں کے اقوال کا نقل کر دینا غنیمت سمجھا۔غرض ان تمام لوگوں نے بے قیدی اور آزادی کی گنجائش پا کر افتراؤں کو انتہاء تک پہنچا دیا۔اور ناحق بیوجہ اہل اسلام کا دل دکھایا اور بہتوں نے اپنی بدذاتی اور مادری بد گوہری سے ہمارے نبی ملایم پر بہتان لگائے یہاں تک کہ کمال خباثت اور اس پلیدی سے جو ان کے اصل میں تھی اس سید المعصومین پر سراسر دروغ گوئی کی راہ سے زنا کی تہمت لگائی۔اگر غیرت مند مسلمانوں کو اپنی محسن گورنمنٹ کا پاس نہ ہوتا تو ایسے شریروں کو جن کے افتراء میں یہاں تک نوبت پہنچی وہ جواب دیتے جو ان کی بداصلی کے مناسب حال ہوتا۔مگر شریف انسانوں کو گورنمنٹ کی پاسداریاں ہر وقت روکتی ہیں۔اور وہ طمانچہ جو ایک گال کے بعد دوسرے گال پر عیسائیوں کو کھانا چاہئے تھا ہم لوگ گورنمنٹ کی اطاعت میں محو ہو کر پادریوں اور ان کے ہاتھ کے اکسائے ہوئے آریوں سے کھا رہے ہیں۔یہ سب بردباریاں ہم