اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 314
314 ہے کہ توہین رسالت کرنے والے کی سزا اسلام میں قتل ہے تو بین رسالت کرنے والا کوئی ذھی ہو یا کافر یا مسلمان مرد ہو یا عورت تو بہ بھی قابل قبول نہیں سب قتل کئے جائیں گے۔ان کا اپنا بیان ہے کہ انہوں نے اس قانون کو بنوانے میں بہت زور لگایا ہے اس بات کا اظہار کئی مجالس میں بھی کر چکے ہیں۔لیکن یہی صاحب جب کینیڈا امریکہ جاتے ہیں اور وہاں کا میڈیا جب ان سے اس قانون کے تعلق سے سوال کرتا ہے تو موصوف اپنی ہی کتاب میں پیش کئے ہوئے مؤقف اور پاکستان میں کی گئی تقاریر اور کوششوں کے بالکل برعکس بیان دیتے ہیں۔اس قانون کے بنوانے اور اس کی تائید کرنے سے اپنا پلہ جھاڑتے ہوئے صاف دکھائی دیتے ہیں اور یہ سب باتیں ریکارڈ میں موجود ہیں اور اس کو فیس بک اور واٹس آپ پر بھی دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔پاکستان میں ایک دفعہ ایک مجلس میں جور یکا ڈڈ ہے فرمایا۔میں اسٹینڈ یہ لے رہا تھا اور یہی قانون بنوایا۔میرا پوائیٹ آف ویو یہ تھا کہ جو بھی گستاخئی رسول کا مرتکب ہو مسلمان ہو یا غیر مسلم مرد ہو یا عورت۔مسلمان ہو یہودی ہو عیسائی 66 ہو ہندو ہو مرد ہو یا عورت جو بھی گستاخی رسول کا مرتکب ہو اس کی سزا قتل ہے۔“ پھر فرمایا تو میں اس لئے تحدیث نعمت کے طور پر آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ قانون تحفظ ناموس رسالت کا ناموس رسالت کا C-295 جو یہ قانون بنا ہے اس ملک میں، میں یہ ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ کس کی کوشش سے بنا تھایہ قانون ، یہ قانون بنوایا ہی میں نے تھا۔پھر یہ ہوا کہ میں پور اواقعہ آپ کو بتادوں کہ 1985 میں جب اٹھارہ گھنٹے کے میرے دلائل مکمل ہو گئے تو اس وقت جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی اور شوری تھی تو 1986 ہو گیا 87 چلتار با یہ عرصہ انہوں نے یہ فائل اور کچھ لوگ جنرل ضیاء الحق کو ملے جو شوریٰ میں تھے تو انہوں نے کہا کہ عدالت میں یہ