اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 306
306 ۱۵ - آنحضرت صلم کی ذات مبارکہ پر اعتراض احادیث کے مطالعہ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جب رسول کریم علیم کے پاس صدقات کا مال یا مال غنیمت آیا کرتا تو آپ میلی اسے لوگوں کے درمیان تقسیم فرمایا کرتے تھے۔اس تقسیم کے دوران بعض لوگ رسول کریم علی ایام پر نا انصافی کرنے کا الزام لگایا کرتے تھے۔نعوذ باللہ ایسے الزامات کے واقعات کا ذکر مختلف روایات میں الگ الگ طریق سے ملتا ہے۔اور آپ کے ارشادات بھی موقعہ کے لحاظ سے کچھ نہ کچھ تبدیل الفاظ کے ساتھ الگ الگ ملتے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ گر میں نے عدل نہ کیا تو اور کون عدل کرے گا ؟ اگر میں نے عدل نہ کیا تو پھر تم نہایت کھائے اور خسارے میں رہے۔( صحیح بخاری حدیث ۱۳۶۰۱ مسلم شریف ۱۰۶۴) ایک مرتبہ فرمایا " کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ حالانکہ میں آسمان والوں کا امین ہوں، میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں۔“ ( صحیح بخاری ۴۳۰۱) اسی طرح ایک شخص نے کہا کہ اللہ سے ڈرو تو آپ نے فرمایا کیا میں تمام کائنات ارضی پر رہنے والوں سے زیادہ اس بات کا حقدار نہیں کہ میں اللہ سے ڈروں؟“ (صحیح بخاری ۳۳۴۴) یہ جتنے بھی مواقعہ میں یہ آنحضرت علیم کی توہین کے زمرہ میں آتے ہیں لیکن کسی ایک موقعہ پر بھی ایسے آمنے سامنے تو بین کرنے والے کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا۔بلکہ ایک روایت میں آتا ہے کہ غالباً وہ حضرت خالد بن ولید تھے نے آپ کی شان میں گستاخی کرنے