اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 285
285 ہوئے تھے۔اور پھر آپ علیم نے معاف بھی فرما دیا۔یہ دونوں باتیں ہی اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ اسلامی شریعت میں گستاخ رسول کی سزا قتل نہیں۔اس جگہ چند احادیث کو پیش کرنا ضروری خیال کرتا ہوں جن سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اسلامی شریعت میں کن لوگوں پر قتل کی سزا مقرر ہے۔ا۔" عن عائشة قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا يحل دم امرء مسلم يشهد ان لا اله الا الله و أن محمدا رسول الله الا في احدى ثلث رجل زنی بعد احصان فانه يرجم و رجل خرج محارباً لله و رسوله فانه یقتل او یصلب او ینفی او یقتل نفساً فيقتل بها ( ابوداؤد کتاب الحدود باب الحکم فی من ارتد جلد سوم صفحه ۳۵۲) یعنی۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ کسی مسلمان کا خون کرنا جائز نہیں جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمداللہ کے رسول ہیں سوائے ان تین وجوہات کے یہ کہ محصن ہو کر زنا کرے تو اس کو سنگسار کیا جائے گا دوسرے وہ جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کے لئے نکلے اسے قتل کیا جائے گا یا سولی دیا جائے گا یا قید کیا جائے گا۔تیسرے وہ جو کسی کا ناحق خون کرے اسے قتل کیا جائے گا۔٢ عن عائشة ان رسول الله صلى الله علیه و سلم قال لا يحل دم امریء مسلم الا بأحدى ثلث خصال زان محصن پر جم او ر جل قتل رجلا متعمدا فيقتل او رجل يخرج من الاسلام فيحارب الله عز وجل و رسوله فیقتل او یصلب او ينفى من الارض ( نسائی۔کتاب المحاربة - باب الصلب جلد سوم صفحہ ۱۳۴)