اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 284
284 اس طرح شخص آنحضرت بی ایم کی نبوت ، کلام الہی اور اسلام کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں شک وشبہات پیدا کرتا تھا اس طرح شخص ایک پولیٹیکل مجرم بن گیا تھا۔ہم میں سے ہر شخص یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ رسول کریم بلال ایلی کے مدینہ تشریف لے آنے کے بعد ہی یہود کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا اس کے ساتھ ہی مدینہ ایک اسلامی مملکت کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔اس کے بعد صلح حدیبیہ کے موقعہ پر مکہ والوں نے بھی معاہدہ کر کے مدینہ کو ایک اسلامی مملکت تسلیم کر لیا تھا۔اس صورت میں حضرت محمد مصطف علی ایم کی ایک حیثیت تو نبی کی تھی ہی دوسری حیثیت اسلامی مملکت کے سر براہ کی بھی آپ کو حاصل ہو گئی تھی جسے مکہ والوں اور انکے حلیفوں نے خود تسلیم کر لیا تھا۔ایسی صورت میں رسول کریم صلیم کو یہ بھی اختیار حاصل تھا کہ آپ کسی بھی مجرم کے لئے کوئی بھی سزا مقررفرماتے۔اسی بنا پر رسول کریم لام نے عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کو بھی ایک پولیٹیکل مجرم قرار دیتے ہوئے اسے قتل کرنے کاارشاد فرمایا۔آنحضرت سلیم نے اس شخص کی اس کی گستاخی کی بنا پر جو اس نے کلام اللہ بنی اللہ کے ساتھ کی تھی اسے قتل کرنے کا حکم تو دیا لیکن آپ مالی نے اسے معاف بھی فرما دیا۔آپ لیہ کا ایسے شخص کو معاف فرماد بینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلامی شریعت میں کسی گستاخ رسول کی سزا قتل مقرر نہیں ہے۔اگر اسلامی شریعت میں گستاخ رسول کی سز اقتل مقرر ہوتی تو آپ اس کو بھی معاف نہ فرماتے۔اسی طرح اگر کسی گستاخ رسول کی سزا قتل ہی ہوتی تو حضرت عثمان بن عفان انہیں کبھی بھی اپنے گھر میں پناہ نہ دیتے۔آپ بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ کوئی ایسی گستاخی نہیں ہے کہ جس کی سز ا شریعت میں صرف قتل ہے اس لئے آپ نے پناہ بھی دی اور خود اسے اپنے ساتھ لیکر رسول کریم علی کی خدمت میں حاضر