اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 259 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 259

259 ”ہم نے یہ واقعہ بروایت اہل المغازی ذکر کیا ہے، حالانکہ واقدی ضعیف ہے، اس لئے یہ واقعہ اہل سیرت کے یہاں مشہور ہے۔۔۔۔۔۔۔پھر اس کے ساتھ یہ چیز بھی شامل ہوتی ہے کہ واقدی مرسل اور مقطوع روایات سے بھی اخذ کرتے ہیں، پھر وہ اس حد تک اس میں 66 کثرت کرتے ہیں کہ اس کی وجہ سے ان کی روایات کو مبالغہ اور عدم ضبط پر محمول کیا جاتا ہے۔“ الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۱۵۹ - ۱۶۰) اس بات پر افسوس ہوتا ہے ایسے افراد جو حوالہ تو پیش کرتے ہیں لیکن اس کے بارے میں یہ بیان نہیں کرتے کہ ان روایات اور واقعات کے بارے میں دوسروں کی کیا رائے ہے ہر دو علماء نے اس واقعہ کو بیان تو کر دیا لیکن یہ نہیں لکھتے کہ یہ کوئی ایسی حدیث نہیں کہ اس کے راوی مضبوط ہوں بلکہ لکھنا چاہئے تھا کہ اس واقعہ کو کتاب السيرة وكتاب المغازی کی روایات سے لیا گیا ہے اس سلسلہ میں گزشتہ صفحات میں یہ بات بیان کر دی گئی تھی کہ تاریخ اور سیرت کے تعلق سے مؤرخین نے جو مواد جمع کیا ہے اس کے لئے انہوں نے یہ معیار قائم نہیں رکھا کہ اس واقعہ کی صداقت کہاں تک ثابت ہے بلکہ مؤرخین نے ہر اس بات کو تاریخ میں جمع کر دیا ہے جو ان تک پہنچی ہے اس لئے سیرت اور تاریخ میں بیان کئے گئے واقعات کی تصدیق نہیں ہوسکتی۔اور یہ جو روایت پیش کی گئی ہے وہ بھی واقدی کے حوالہ سے ہے جب کہ اس کی اپنی حیثیت ہی مشکوک ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے نے اپنی کتاب سیرت خاتم النبیین صلی یکیم میں واقدی کے بارے میں ایک الگ سے نوٹ دیا ہے جو ان کی اصلیت کو ظاہر کرتا ہے اسےاس جگہ نوٹ کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔کیونکہ ایسی بہت سی روایات تاریخ میں ملتی ہیں جن کی اصل قرآن و حدیث میں تلاش کرنے سے نہیں ملتی لیکن واقدی ایسے واقعات کو اس طرح سے پیش کرتا ہے کہ گویا یہ صاحب آنکھوں دیکھی بات بیان کر رہے ہوں۔زیر نظر کتاب کے تعلیم