اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 248
248 کئے۔اس سے مسلمانوں کو سخت صدمہ ہوتا تھا۔پھر اس نے آنحضرت صلعم کے قتل کی تدبیریں اور سازشیں شروع کیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آنحضرت رات کے وقت باہر نکلنے میں احتیاط سے کام لیتے تھے۔جب کعب بن اشرف کی شرارتیں حد سے بڑھ گئیں تو ایک صحابی محمد بن مسلمین نے آنحضرت صلعم سے اس شریر کے قتل کی اجازت لینے کے بعد کئی دوستوں کو ہمراہ لیا اور اس کے گھر جا کر اس کو قتل کیا۔“ ( تاریخ اسلام حصہ اول مصنفہ مولانا اکبر شاہ خاں نجیب آبادی مطبوعہ تاج کمپنی دہلی صفحه ۱۵۵ و ۱۵۶) ان حوالوں سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ کعب بن اشرف کسی قسم کا انسان تھا اور وہ کن کن ریشہ دوانیوں میں شامل تھا۔اس نے ایک جرم نہیں کیا بلکہ کئی جرموں کا مرتکب ہوا تھا۔یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ اس کا قتل توہین رسالت کی بنا پر کیا گیا تھا۔اسی طرح سیرت حلبیہ میں لکھا ہے کہ حضرت زید کو آنحضرت صلی نے اپنی اونٹنی قصوری پر سوار کر کے بھیجا اور ایک قول ہے کہ عصبار نامی اونٹنی پر بھیجا کہ حق تعالیٰ نے اپنے نبی اور مسلمانوں کو جو عظیم فتح نصیب فرمائی ہے اس کی اطلاع لوگوں کو پہنچادیں چنا نچہ عالیہ کے علاقوں میں حضرت عبد اللہ ابن رواحہ اور سافلہ کے علاقوں میں حضرت زید بن حارثہ نے جا کر اعلان کیا۔ے گروہ انصارا تمہیں خوشخبری ہو۔رسول میلین کی سلامتی اور مشرک کے قتل اور گرفتاری کی۔ساتھ ہی یہ دونوں کہتے جاتے تھے کہ قریشی سرداروں میں سے فلاں اور فلاں قتل ہو گئے اور فلاں فلاں گرفتار ہو گئے۔ان دونوں کے منہ سے یہ اعلان سن کر اللہ کا دشمن کعب رض بن اشرف یہودی ان کو جھٹلانے لگا۔وہ کہنے لگا۔