اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 244
244 سے دو بچے تھے بچوں کی ماں کے نہ رہنے کی وجہ سے ان کی کفالت کی ذمہ داری اب باپ پر تھی۔ماں کا سایہ اٹھ جانے کے بعد باپ کا سایہ بچوں کے سر پر رہے ہوسکتا ہے اس لئے بھی اس قتل کو بد دقراردیا ہو۔۵۔پانچویں بات یہ ہے کہ یہ معاملہ آنحضرت علی ایم کے سامنے پیش ہوا تھا۔آپ کہ جہاں اللہ کے رسول تھے وہاں آپ حاکم وقت بھی تھے۔آپ جو بھی فیصلہ فرماتے وہ ایک نبی اور ایک حاکم وقت کی طرف سے جاری کردہ فیصلہ تھا۔جس پر کسی کو کوئی اعتراض کا یا اس سے اپنی مرضی کا جواز نکالنے کا کوئی حق نہیں رہتا کیونکہ آپ میم نے مدد کی کوئی وجہ بیان نہیں فرمائی خود سے یہ جواز نکال لینا کہ گالی دینے والے کو قتل کرنا جائز ہے اس لئے آپ عالی ایلیم نے اسے بدد قرار د یا کسی طرح بھی درست دکھائی نہیں دیتا۔الغرض اس قتل کو صرف گالی دینے کی بنا پر ہدد قرادینا کسی صورت میں بھی قرآن وحدیث کی روشنی میں درست نہیں مانا جا سکتا۔کیونکہ گالی و شخص دیتا ہے جو لاعلم ہے اور جس کو معلوم ہی نہیں کہ وہ جس کو گالی دے رہا ہے اس کا مقام کیا ہے تو اس کو سزا کیسے دی جاسکتی ہے ویسے بھی لاعلمی کی بنا پر صادر ہوا گناہ بھی قابل مواخذہ نہیں ہوتا۔اسی بات کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ (الانعام آیت نمبر ۱۰۹) یعنی اور تم انہیں جنہیں وہ اللہ کے سوا ( دعاؤں میں ) پکارتے ہیں گالیاں نہ دو نہیں تو وہ دشمن ہو کر جہالت کی وجہ سے اللہ کوگالیاں دیں گے۔قرآن کریم نے کس قدر صاف اور سیدھی بات بیان کی ہے کہ تم کسی غیر اللہ کو بھی گالی نہ دو اگر تم ایسا کرو گے تو یہ بتایا ہے کہ لوگ ناعلمی اور جہالت کی بنا پر خدا کو گالیاں دیں گے۔اس