اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 215
215 اس حدیث میں حضرت ابو ایوب انصاری ایک ایسی حدیث کو جو اصول روایت کی لحاظ ے صحیح تھی اپنی روایت کی بنا پر قبول کرنے سے انکار کر دیا۔اور گو یہ ممکن ہے کہ حضرت ابو ایوب کا استدلال درست نہ ہو مگر بہر حال یہ حدیث اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ صحابہ یونہی کورانہ طور پر ہر روایت کو قبول نہیں کر لیتے تھے ، بلکہ درایت وروایت ہر دو کے اصول کے ماتحت پوری تحقیق کر لینے کے بعد قبول کرتے تھے۔پھر ایک اور حدیث میں آتا ہے قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرْتُ ذَالِكَ لَعَائِشَةَ فَقَالَتْ يَرْحَمُ اللهُ محمر واللهِ مَا حَدَكَ رَسُولُ اللهِ صلعم أَنَّ الْمَيْتَ ليُعَذِّبُ بِبُكاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ولكن قَالَ إِنَّ اللهَ يَزِيدُ الْكَافِرِ عَذَابًا بَبُكاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ قَالَ وَقَالَتْ عَائِشَةُ حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخرى (بخاری و مسلم بحوالہ مشکوۃ باب البكاء على الميت د یعنی ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر یہ روایت بیان کرتے تھے کہ آنحضرت علی نے فرمایا کہ میت پر رونے سے میت پر عذاب ہوتا ہے۔ابن عباس کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد میں نے یہ حدیث حضرت عائشہ سے بیان کی تو فرمانے لگیں اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے۔خدا کی قسم رسول اللہ علیم نے ایسا ہر گز نہیں فرمایا بلکہ یہ کہا تھا کہ ایک کافر کے مرنے کے بعد اگر اس کے ورثاء اس پر روئیں تو اس وجہ سے اس کا عذاب اور زیادہ ہو جاتا ہے۔(کیونکہ جب وہ زندہ تھا تو ان کے اس فعل میں ان کا مؤید ہوا کرتا تھا) اور پھر حضرت عائشہ کہنے لگیں کہ ہمیں قرآن کا یہ قول کافی ہے کہ کوئی نفس کسی دوسرے نفس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا