اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 192
192 آ گیا۔جب وہ آیا تو اس کی بیوی اسے رسول کریم علیم کے پاس لے گئی۔اس نے کہا یا رسول اللہ میری بیوی کہتی ہے کہ آپ نے مجھے مکہ میں رہنے کی اجازت دی ہے کیا یہ ٹھیک ہے؟ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے۔پھر اس نے کہا یا رسول اللہ جب تک اسلام میری سمجھ میں نہیں آتا میں اسلام قبول نہیں کرونگا، کیا غیر مسلم اور مشرک ہونے کی حیثیت میں بھی مجھے مکہ میں رہنے کی اجازت ہوگی؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اس پر وہ بے اختیار بولا کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ آپ نے فرمایا یہ کیا ؟ تم تو ابھی کہہ رہے تھے کہ اسلام ابھی تمہاری سمجھ میں نہیں آیا۔اس نے کہا یا رسول اللہ آپ نے جو اپنے ابتدائی اور سب سے بڑے دشمن اسلام کے بیٹے سے یہ سلوک کیا ہے کہ وہ مشرک رہتے ہوئے بھی مکہ میں رہ سکتا ہے یہ سوائے خدا کے رسول کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔پس آپ کے اس فیصلہ سے میرادل صاف ہو گیا ہے اور میں نے سمجھ لیا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔یہ واقعہ بتاتا ہے کہ رسول کریم علیم بھی یہی سمجھتے تھے کہ اس صورت کا یہ مطلب نہیں کہ مشرکین کو عرب سے نکال دیا جائے ، بلکہ صرف شریر کفار کو نکالنے کا حکم ہے جو کفار اس بات پر آمادہ ہوں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ محبت سے رہیں گے تو ان کو نکالنے کا کہیں حکم نہیں۔اول قرآن کے الفاظ اور دوم رسول کریم ملی کاعمل ثابت کرتا ہے کہ اس سورۃ میں کفار کو جبری نکالنے کا کوئی حکم نہیں ، بلکہ زیادہ سے زیادہ ایسے لوگوں کو نکالنے کا حکم ہے جو شریر ہوں اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں جاری رکھنے والے ہوں۔اور ایسے لوگوں کو دنیا کی ہر حکومت نکالتی ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں سمجھتی۔فعل ان کا اپنا ہوتا ہے اور ہر شخص اپنے فعل کا آپ ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔“ ( تفسیر صغیر تشریح آیت نمبر ۲ سورۃ التوبه صفحه ۲۳۱ و ۲۳۲)