اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 176 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 176

176 کرنے پڑتے تھے جو مسلمانوں کے دینی مصالح کے ساتھ خاص تھے اور یہ انصاف سے بعید تھا کہ ان کا بوجھ غیر مسلم رعایا پر ڈالا جاتا لہذا کمال دیانت داری کے ساتھ اسلام نے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے بعض ٹیکس جدا جدا کر دئے۔چنانچہ جہاں مسلمانوں کے مخصوص ٹیکس یعنی زکوۃ میں دینی اور سیاسی اغراض ہر دو مخلوط طور پر شامل کر دی گئیں۔(سورۃ توبہ آیت اے) وہاں غیر مسلموں کے مخصوص ٹیکس یعنی جزیہ کے مصارف میں کوئی دینی غرض شامل نہیں کی گئی بلکہ اسے عام رکھا گیا (سورۃ توبہ آیت ۲۹) یہی وجہ ہے کہ بیشتر صورتوں میں زکوۃ کا ٹیکس جو مسلمانوں کے لئے خاص ہے جزیہ کے ٹیکس سے بھاری ہوتا ہے کیونکہ اس کے مصارف زیادہ ہیں۔پس غور کیا جاوے تو جزیہ کے ٹیکس کا غیر مسلموں کے ساتھ مخصوص کر دیا جانا اسلام اور بانی اسلام کی اعلی درجہ کی دیانت کا ثبوت ہے۔مگر افسوس کہ نادان لوگوں نے اسی کو ایک اعتراض کی بنیاد بنالیا ہے۔اب را جزیہ کی تشخیص و تحصیل کا سوال۔سو اس معاملہ میں بھی اسلام نے ایک ایسا اعلیٰ نمونہ قائم کیا ہے جس کی نظیر کسی دوسری جگہ نہیں ملتی۔اس کے متعلق سب سے پہلی بات تو یہ جاننی چاہئے کہ اسلام نے جزیہ کے ٹیکس کی کوئی شرح معین نہیں کی بلکہ اسے ہر زمانہ اور ہر قوم کے حالات پر چھوڑ دیا ہے۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ خود آنحضرت علی نے عرب کے مختلف قبائل کے ساتھ جزیہ کے متعلق مختلف صورتیں اور مختلف شرحیں اختیار کی تھیں۔چنانچہ مثلاً نجران کے عیسائیوں سے آنحضرت علی نے مجموعی طور پر دوہزار چادر میں اور بعض ضروری چیزیں سالانہ مقرر کی تھیں۔( بخاری بحوالہ فتح الباری جلد ۷ صفحہ ۷۳ وابوداؤد کتاب الخراج باب فی اخذ الجزية و کتاب الخراج قاضی ابو یوسف) مگر اس کے مقابل پر یمن کے لوگوں سے اوسطاً ایک دینار فی کس سالانہ مقرر تھا۔(ابو داؤد کتاب الخراج باب فی اخذ الجزیۃ ) اسی طرح آنحضرت علیم کے بعد آپ