اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 175
175 جزیہ جو شخص جز یہ ادا کرتا ہے وہ ذمی کہلاتا ہے۔جزیہ کیا چیز ہے جس کی ادائیگی کسی کو ذھی بناتی ہے اس کے متعلق بھی جاننا ضروری ہے کہ جزیہ کیوں اور کس قدر لگایا جاتا تھا؟ اور اس کا مقصد اور مصرف کیا تھا؟ اس مسئلہ پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی تصنیف ”سیرت خاتم النبيين بالای ایام میں ایک نوٹ لکھا ہے جس میں اس کی پوری وضاحت موجود ہے میں اسے اس جگہ لکھنا مناسب خیال کرتا ہوں۔آپ لکھتے ہیں جزیہ کا مسئلہ بعض لوگوں کو قابل اعتراض نظر آتا ہے حالانکہ وہ محض ایک ٹیکس تھا جو نظام حکومت کو چلانے کے لئے غیر مسلم رعایا سے لیا جاتا تھا اور جس کا فائدہ بالواسطہ خود ٹیکس دینے والے کو ہی پہنچتا تھا۔کیونکہ اس روپئے سے حکومت ان کے حقوق کی حفاظت ان کے آرام و آسائش اور ان کی بہبود کا انتظام کرتی تھی اور ان کے جان ومال کی حفاظت کے لئے افواج مہیا کرتی تھی اور اگر یہ اعتراض ہو کہ یہ ٹیکس غیر مسلم رعایا کے ساتھ مخصوص کیوں تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو یہ ٹیکس فوجی خدمت کا معاوضہ سمجھا جاتا تھا جو مسلمان سپاہی سرانجام دیتے تھے مگر جس سے غیر مسلم رعایا آزاد رکھی گئی تھی یعنی جہاں ہر مسلمان گویا جبری بھرتی کے قانون کے ماتحت تھا وہاں غیر مسلم رعایا آزا د کھی گئی تھی۔اس صورت میں یہ انصاف کا تقاضا تھا کہ اسلامی حکومت کے فوجی اخراجات کا بوجھ ایک حد تک غیر مسلم رعایا پر بھی ڈالا جاتا اور یہی جز یہ تھا۔علاوہ ازیں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ در اصل اسلام میں ٹیکس کے معاملہ کو تین شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔اوّل وہ ٹیکس صرف مسلمانوں کے ساتھ خاص تھے مثلاً زکوۃ۔دوم وہ ٹیکس جو غیر مسلموں کے ساتھ خاص تھے مثلاً جزیہ۔سوم مشترک ٹیکس جو حسب حالات سب پر لگائے جا سکتے تھے مثلا زمین کا مالیہ۔اس تقسیم و تفریق کی وجہ تھی کہ اسلامی حکومت کو بعض ایسے کام بھی