اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 170
170 کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ ان کی مدد پر قادر ہے جب یہ دفاعی جنگیں ہوئیں تو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتوحات سے نوازا۔اسلام کا اصل مقصد دنیا میں توحید کا قیام تھا۔جن علاقوں کو بھی مسلمان فتح کرتے وہاں لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جاتی جو تو اسلام قبول کرتے ان پر اسلامی قوانین نافذ کئے جاتے۔بہت سے ایسے بھی ہوتے جو اپنے دین پر قائم رہتے اور اسلام قبول نہ کرتے۔ان سے اس فتح یافتہ ملک میں قیام کی صورت میں معاہدہ کیا جاتا جن میں بعض شرائط رکھی جاتیں جن کو دونوں فریق بخوشی قبول کرتے۔تو ایسے لوگ جو مغلوب ہو کر باہمی رضامندی سے قائم کی گئی شرائط پر عمل کرنے کی شرط پر اسلامی مملکت میں رہنا پسند کرتے انہیں اسلامی اصطلاح میں ذمی کہا جاتا۔اور یہ لوگ ذمی کہلاتے۔ان میں اور مسلمانوں میں ٹیکس کے معاملہ میں بھی الگ الگ اصطلاح قائم تھی۔مسلمانوں سے زکوۃ وصول کی جاتی تھی اور ذمیوں سے جو ٹیکس وصول کیا جاتا وہ جزیہ کہلاتا تھا۔اگر لغت میں دیکھا جائے تو اس کے معنی یہ بیان ہوئے ہیں کہ الذی یعنی وہ شخص جس سے معاہدہ کر کے اس کی جان و مال عزت و آبرو اور مذہب کی 66 حفاظت کا ذمہ لیا گیا ہو۔ھی ذمّيّة عرب میں یہود و نصاریٰ اور مشرکین موجود تھے اس لئے ذمی کا اطلاق عام طور پر ان قوموں کے مفتوح ہو جانے اور ان سے معاہدات کر لینے کے بعد ہوتا تھا لیکن آج کے دور میں اگر کسی جگہ اسلامی حکومت قائم ہو جہاں تمام اسلامی اصول نافذ ہونگے تو اگر وہاں ان کے علاوہ دیگر مذاہب والے بھی اپنے دین پر رہتے ہوئے معاہدہ کرتے ہیں تو وہ بھی ذھی ہی کہلائیں گے اور انہیں معاہدہ کرنے کے بعد جزیہ دینا ہوگا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے۔