اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 165 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 165

165 ( بھی ) اکارت جائیں گے اور ایسے لوگ دوزخ ( کی آگ میں پڑنے) والے ہیں وہ اس میں ( دیر تک ) رہیں گے۔اب اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے دین سے پھر جانے والوں کا ذکر کیا اور فرمایا ہے کہ یہ جو مخالفین اسلام میں یتیم سے لڑتے ہی اس غرض سے ہیں کہ تا تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں برگشتہ کر دیں ان کی مخالفتوں اور لڑائیوں کے نتیجہ میں اگر کوئی دین سے پھر جائے مرتد ہو جائے اور ارتداد کی حالت میں ہی مر بھی جائے تو یا درکھو کہ اس کی اعمال جو بھی اس نے کئے تھے وہ اس نے اس دنیا میں بھی ضائع کر لئے اور آخرت میں بھی ضائع کر لئے اور وہ دوزخی ہو گا۔اب دیکھیں اس آیت میں ایک مرتد کو اس کی موت تک مہلت دی ہے یہ نہیں فرمایا کہ اگر مرتد ہو جائے تو اسے قتل کر دو اس آیت میں بھی مرتد کو سزا دینے کا اختیار اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔کسی بندے کو کسی حاکم کو با اختیار نہیں دیا کہ اگر ارتداد اختیار کرے تو اس کو قتل کر دو۔اسی طرح ایک جگہ فرمایا وَمَنْ يَتَبَتِّلِ الْكُفْرَ بِالْايْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِه ( البقره آیت نمبر ۱۰۹) یعنی۔اور جو ایمان کے بدلے کفر اختیار کرے تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔اگر اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہوتی تو قرآن کریم میں اس جگہ بھی موقعہ تھا کہ اس کا ذکر کیا جاتا لیکن یہاں بھی ایسا دکھائی نہیں دیتا بلکہ صرف یہ بات بیان کی گئی ہے کہ ایسا شخص سیدھے راستے سے بھٹک جاتا ہے۔اور سیدھے راستہ سے بھٹک جانے کی سز ا صرف اخروی زندگی میں ہی ہوسکتی ہے اس زندگی میں اس کو قتل کرنے کا کوئی حکم نہیں۔اورسید ھے راستہ سے بھٹک جانا کوئی ایسا فعل نہیں ہے کہ انسانی فطرت اس کے لئے قتل کی سزا تجویز کرے۔اسی طرح ایک اور