اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 164
164 پر سخت اور اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے پسند کرتا ہے ( فضل اسے) دیدتا ہے اور اللہ وسعت بخشنے والا ( اور ) بہت جاننے والا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو متنبع کیا ہے کہ اگر تم دین سے پھر جاؤ گے تو اللہ تمہاری جگہ ایک اور قوم کو لے آئے گا۔یہ نہیں فرمایا کہ اگر تم پھر جاؤ گے تو ارتداد کے نتیجہ میں قتل کر دئے جاؤ گے۔قرآن کریم میں یہ ایک ایسا موقعہ ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو تنبیہ کر رہا ہے کہ اگر تم لوگوں نے ارتداد اختیار کیا تو میں تم سے کیا کرنے والا ہوں۔اگر اسلام میں مرتد کی سز اقتل ہوتی تو اس مقام پر اس کا ذکر ہوتا یہ نہ فرما تا کہ تم اگر ارتداد اختیار کرو گے تو اللہ اس کے بدلہ میں اس رسول سے محبت کرنے والی اور جن سے اللہ کا رسول محبت کرتا ہوگا ایسی قوم کولے آئے گا بلکہ یہی کہتا کہ ارتداد کے نتیجہ میں قتل کئے جاؤ گے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایسا کوئی حکم نہیں دیا بلکہ کسی جگہ بھی نہیں دیا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا يَزَالُونَ يُقَتِلُونَكُمْ حَتَّى يُرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا وَمَنْ يَرْتَدِدُ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرُ فَأُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأُولَئِكَ أَصْحَبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ (البقره آیت نمبر (۲۱۸ یعنی۔اگر ان کی طاقت میں ہو تو تم سے لڑتے ہی چلے جائیں تا کہ تمہیں تمہارے دین پھیر دیں اور تم میں سے جو ( بھی ) اپنے دین سے پھر جائے ( اور ) پھر کفر ہی کی حالت میں مر ( بھی ) جائے تو ( وہ یادر کھے ) ایسے لوگوں کے اعمال اس دنیا میں ( بھی ) اور آخرت میں