اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 160 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 160

160 ایمان نہیں لائے اور انہوں نے ارتداد بھی اختیار نہیں کیا۔لہذا یہ بات کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں ہوسکتی۔اس سلسلہ میں جناب ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے لکھا ہے کہ علامہ ابن تیمیہ لعنت کا مفہوم بیان کرتے ہیں کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کسی کو اپنی رحمت سے دور کر دے مزید براں فرماتے ہیں۔کہ اللہ جل شانہ دنیا و آخرت میں اپنی رحمت واسعہ سے سوائے کافر و مشرک کے کسی کو محروم نہیں کرتا۔بلکہ مومن کی یہ شان ہے وہ ہر لمحہ رحمت خداوندی کے قرب و حضور کا متلاشی و سرگردان رہتا ہے اس لئے وہ مباح الدم نہیں ہوسکتا کیونکہ خون اور زندگی کی حفاظت کی عظیم رحمت و برکت اسے باری تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوتی ہے اس لئے اس کی جان و مال محفوظ و مامون ہے اور استحقاق لعنت سے بھی بچارہا جبکہ لعنت تو ملعون کو مستحق قتل بناتی ہے۔اس کی تائید ہمیں حضور علی کے فرمان سے ملتی ہے۔و من لعن مو منا وهو كقتله جس نے کسی بھی مومن پر لعنت کی تو دو وایسا ہے جیسے اس نے اسے قتل کیا (صحیح بخاری کتاب الادب ۲ - ۸۹۳) مزید برآں امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں فاذا كان الله قد لعن هذا فى الدنيا والاخرة فهو كقتله فعلم ان قتله مباح جب اللہ جل شانہ نے دنیا و آخرت میں ( گستاخ رسول علیایی ) پر لعنت فرمائی تو وہ ایسے ہی ہے جیسے صفحہ ہستی سے اسے مٹانا اور قتل کرنا ہے پس یہ بات معلوم ہوئی کہ ( شاتم رسول)