اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 143
143 کوشش کی گئی ہے۔حالانکہ آنحضرت علیم کے سامنے ایسے واقعات ہوئے لیکن آپ نے کسی کے بارے میں بھی ویسا حکم نہیں دیا جس قسم کا امام ابن تیمیہ اس آیت کو پیش کر کے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اس آیت کے تحت ساری بات پہلے ہی بیان کر دی گئی ہے دوبارہ لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں سمجھتا۔مولانا پیر زادہ شفیق الرحمن شاہ الد راوی صاحب نے بھی اپنی کتاب شاتم رسول صلیم کی شرعی سزا کے صفحہ ۱۶۵ تا ۶۹ میں اسی آیت کو پیش کر کے بحث کی ے۔ساتویں دلیل کے طور پر قرآن کریم کی جو آیت پیش کی ہے وہ اس طرح ہے لا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا قَدْ يَعْلَمُ اللهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِوَاذًا فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِةَ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ( النور آیت ۶۴ ) یعنی اے مومنو! یہ نہ سمجھو کہ رسول کا تم میں سے کسی کو بلانا ایسا ہی ہے جیسا کہ تم میں سے بعض کا بعض کو بلانا۔اللہ ان لوگوں کو جانتا ہے جو کہ تم میں سے پہلو بچا کر ( مشورہ کی مجلس سے ) بھاگ جاتے ہیں پس چاہئے کہ جو اس رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں اس سے ڈریں کہ ان کو خدا کی طرف سے کوئی آفت نہ پہنچ جائے یا ان کو دردناک عذاب نہ پہنچ جائے۔امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم علیم کے مخالفین کو حکم دیا گیا ہے کہ فتنے سے احتراز کریں ، فتنے سے ارتداد اور کفر مراد ہے۔“ ( الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۱۱۲) 66 سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس آیت میں یہ مضمون ہی موجود نہیں کہ فتنے سے احتراز کریں جو اس میں سے نکالا گیا ہے کیونکہ آگے یہی مضمون بیان کیا جا رہا ہے کہ فتنہ قتل سے بھی