اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 142 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 142

(الحجرات آیت ۳) 142 یعنی اے ایمان والو! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو ، جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے رو بروزور سے نہ بولا کرو (ایسانہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔قرآن کریم کی اس آیت پر اس سے پہلے کافی تفصیل سے ذکر کیا جا چکا ہے اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔امام ابن تیمیہ نے اس حوالہ سے لکھا ہے کہ رح وجہ استدلالیہ ہے کہ اللہ نے ان کو اس بات سے منع کیا کہ اپنی آوازوں کو نبی کریم ام کی آواز سے زیادہ کریں یا اس طرح بآواز بلند ان سے مخاطب ہوں جیسے آپس میں ہوتے ہیں۔اس لئے کہ یہ رفع و جہر حبوط اعمال کا موجب بن سکتا ہے جبکہ آواز بلند کرنے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا۔آیت میں ترک جہر کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ شبوط اعمال سے سلامت رہے۔اس آیت میں جس خرابی کی نشاندہی کی گئی ہے وہ حبوط اعمال کا ہے اور جو چیز حبوط اعمال تک لے جاسکتی ہو اس کا ترک کرنا واجب ہے اور اعمال کا حبط کفر کی وجہ ہوسکتا ہے۔“ الصارم السلول علی شاتم الرسول صفحہ ۱۰۹) اس کے ساتھ ہی حبط ایمان کے بارے میں قرآن کریم کی آیات البقرہ آیت ۲۱۸ ، المائدہ آیت ۶ ، الانعام آیت ۸۹ ، الزمر کی آیت ۶۶ محمد کی آیت ۱۰، پیش کی ہیں ان آیات میں ایمان کے بعد ایمان سے پھر جانے سے اعمال ضائع ہونے ،شرک کرنے کی بنا پر اعمال ضائع ہونے۔اللہ نے جو نازل کیا اس کو نا پسند کرنے کی بنا پر اعمال ضائع ہونے کا ذکر ہے درجہ بالا آیت سے ان آیات کا کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا ز بر دستی مطلب حاصل کرنے کی