اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 133
133 حسنین کے بعد مال غنیمت تقسیم فرما ر ہے تھے، آپ یل ام کو فتح مکہ کے موقعہ پر ایمان لانے والوں کے تالیف قلب کی خاطر کچھ زیادہ جود وسخا اور کرم نوازی کا مظاہرہ فرما رہے تھے اس پر حرقوص بن زہیر جس کا لقب ذوالخویصرہ تھا کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔فقال يا رسول الله اعدل فقال ويلك ومن يعدل اذا لم اعدل قد خبت و خسرت ان لم اكن اعدل (صحیح بخاری کتاب المناقب ۵۰۹) یعنی اس نے کہا یا رسول اللہ علیم انصاف کیجئے۔آپ میل نعیم نے فرمایا اگر میں نے انصاف نہ کیا تو پھر انصاف کون کرے گا۔میں ناکام و نامراد اور خسارے میں پڑا اگر میں انصاف نہ کروں۔حضرت عمرؓ اس وقت بارگاہ مصطفوی میلی کیم میں حاضر تھے جو نہی آپ نے اس گستاخ و بد بخت کو بارگاہ رسالت باب ملیم میں بے ادبی و گستاخی کرتے ہوئے دیکھا تو آپ سے اس کی جرأت دلیری برداشت نہ ہوسکی فورا عرض کرنے لگے۔فقال عمر یا رسول اللہ ائذن لي فيه اضرب عنقه (صحیح بخاری کتاب المناقب ۵۰۹ حضرت عمر فاروق نے کہا یا رسول اللہ علی الیکم مجھے اس کے متعلق اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔حضور علی نے مصلحتاً اپنے حق میں بذات خود تصرف فرماتے ہوئے وقتی طور پر حضرت عمرہ کو اس گستاخ کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔66 فقال له دعه آپ صلیم نے فرمایا اے عمر اسے چھوڑ دو۔“ تحفظ ناموس رسالت صفحه ۱۸۶،۱۸۵)