اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 132 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 132

132 لگاتے ہیں اور تحقیر کرتے ہیں۔عطاء کہتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ تیری چغلی کھاتے ہیں“ الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحه ۸۱) اس کے ساتھ ہی آپ نے منافقین کے وہ اقوال بھی بیان کئے ہیں جن سے ان کے عدم ایمان کی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور منافقین کے ایمان سے عاری ہونے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں لیکن اس ساری بحث سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ اس آیت میں بھی منافقین کا ذکر ہورہا ہے۔علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے بھی اسی آیت کو منافقین کی الزام تراشیوں کے عنوان کے تحت بیان کیا ہے۔اس مکمل آیت کو پیش کرنے کے بعد آپ تحریر فرماتے ہیں۔’اس الزام تراشی کی بنیاد و اساس ان کی مفاد پرستی و خود غرضی ،حرص و لالچ اور ہوس نفس ہے جس کی بنا پر ان کی یہ حالت ہو چکی ہے کہ صدقات وخیرات کی تقسیم وغیرہ ان کی خواہش و آرزو کے عین مطابق ہو جائے تو خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔کیونکہ ان کا مقصود تو حصول دنیا ہے جبکہ دین سے ان کا حقیقی تعلق و ناطہ سرے سے موجود ہی نہیں۔علاوہ ازیں یہ اپنی دنیوی خواہشات کی تکمیل پر اس قدر فرحان ہوتے ہیں کہ اس کے بعد کسی نوعیت کے طعن و تشنیع اور عیب و نقص کا آپ کو نشانہ و ہدف نہیں بناتے لیکن اس کے برعکس اگر انہیں صدقات میں سے کچھ کم و تھوڑا ملے یا اس قدر نہ ملے جس سے ان کے نفوس خوش ہوسکیں تو پھر آپ ملا لیا ایم کی شان اقدس میں گستاخی و اہانت کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں اور عیب جوئی والزام تراشی شروع کر دیتے ہیں۔اپنے غیض و غضب کا آپ کو فقط اس لئے نشانہ بناتے ہیں کہ ان کی مذموم خواہش نفس کی تکمیل نہ ہوسکی۔مذکورہ آیت کریمہ کے شان نزول کے متعلق مفسرین نے لکھا ہے کہ حضور علی کی فتح