اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 91

91 اس لئے حضرت علیؓ کے متعلق ایسی ذلیل بات منسوب کرنا کہ انہوں نے زندہ جلا دیا یہ بالکل جھوٹ ہے اور قطعی جھوٹ ہے کیونکہ آپ کے ایک شدید دشمن کی طرف سے مروی ہے جو حضرت علی پر بہتان بازی کرنا چاہتا ہے چنانچہ اس بات کی تصدیق ایک دوسری روایت سے بھی ہوتی ہے جس میں عکرمہ بتاتا ہے کہ جب حضرت علی کو حضرت ابن عباس کے اس رد عمل کی خبر پہنچی تو آپ نے سخت برہم ہو کر کہا: ”وَيْحَ ابن عباس “ کہ خدا ابن عباس کو غارت کرے۔(سنن ابی داؤد کتاب الحدود باب الحكم فيمن ارتد مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ کے اصل معنی ۲۔پھر مَنْ بَدَّلَ دِيْنَهُ فَاقْتُلُوهُ“ کا جملہ عمومیت رکھتا ہے اور اس کے کئی 66 معنے کئے جا سکتے ہیں۔چنانچہ لفظ ”من“ مرد عورتوں اور بچوں سب پر اطلاق پاتا ہے۔مگر کئی فقہا ء ایسے ہیں جنہوں نے مرتد عورت کے قتل کو نا جائز قرار دیا ہے۔۳۔پھر دِینَهُ “ میں لفظ ”دین“ سے کوئی بھی دین مراد لیا جا سکتا ہے صرف اسلام ہی مراد نہیں لیا جا سکتا۔بت پرستوں کے دین کو بھی قرآن میں دین کہا گیا ہے۔(سورۃ الکافرون) ان احتمالات کے ہوتے ہوئے ایسی روایت کو صرف ایسے مسلمان سے جو اپنا دین بدل دے مخصوص کر دینا کس طرح ممکن ہے؟ قانون کی حساس و بار یک زبان کو مدنظر رکھتے ہوئے اس روایت کی رو سے تو ہر اس انسان کو جو اپنا دین بدلے قتل کیا جائے گا خواہ اس کا کوئی بھی دین ہو۔پھر تو ہر وہ یہودی جو عیسائی ہو جائے قتل کیا جائے گا اور ہر وہ عیسائی جو مسلمان ہو قتل کیا جائے گا اور ہر وہ مشرک جو کوئی اور دین