اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 62 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 62

62 نظر یہ قتل مرتد۔۔۔۔۔احادیث کی روشنی میں اب میں حدیثوں کی طرف آتا ہوں۔جب علماء کو قرآن کریم میں سے اپنی مرضی کا کوئی مضمون نظر نہ آئے تو پھر وہ حدیثوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔اور یہ بات اس لحاظ سے ضرور جائز ہے کہ اگر قرآن میں کوئی مضمون لاعلمی کی وجہ سے ہم اس آیت کو تلاش نہ کر سکیں جس میں کوئی مضمون بیان کیا گیا ہو تو اس بارہ میں حدیث سے مدد لی جا سکتی ہے۔مگر حدیث کو قرآن کریم پر حاکم نہیں بنایا جاسکتا۔اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غیر متبدل مسلک تھا۔پس فی ذاتہ اس بات پر مجھے کوئی اعتراض نہیں، مگر جنہوں نے قرآن کے خلاف وہ زیادتیاں کیں جن کا میں ذکر کر چکا ہوں وہ حدیث پر زیادتیاں کرنے سے کب باز آنے والے ہیں۔جنہوں نے اللہ کے کلام کا احترام نہیں کیا اور زبردستی اس کی طرف مضمون منسوب کئے ، ان لوگوں سے یہی توقع ہے کہ وہ یہی حرکت حدیث کے ساتھ بھی کریں گے۔چنانچہ ایسا ہی کر رہے ہیں۔پہلی روایت قائلین قتل مرتد کی اخذ کردہ احادیث ایک حدیث عبداللہ بن ابی سرح کے بارہ میں پیش کی گئی ہے کہ کسی زمانے میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کاتب وحی تھا، مگر شیطان نے اس کو پھسلا دیا۔جب فتح مکہ ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔مگر بعد میں حضرت عثمان نے اس کے لئے پناہ مانگی اور رسول اللہ نے پناہ دے دی۔( ارتداد کی سزا اسلامی قانون میں از مودودی۔صفحہ ۱۵)