اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 43
43 کے مرتکب ہو چکے ہیں۔اس لئے ان سے لڑو جو تم سے لڑنے میں پہل کر چکے ہیں۔یہ ہے مولانا مودودی کی قتل مرتد کی دلیل کا قرآنی سیاق و سباق اور یہ بھی شبیر عثمانی صاحب کی دلیل کی طرح ان کی اکلوتی قرآنی دلیل ہے۔اس کے سوا ان کو سارے قرآن میں اور کوئی دلیل نہیں ملی۔علماء کی تیسری دلیل اب میں وفاقی شرعی عدالت پاکستان میں پیش کی جانے والی بعض ان مزعومه قرآنی آیات کا ذکر کرتا ہوں جن سے عدالت کی کارروائی کے دوران علماء کی طرف سے قتل مرتد کا استدلال کیا گیا ہے۔إِنَّمَا جَزَوا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمُ (المائدة: ۳۳) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یعنی یقیناً وہ لوگ جنہوں نے تم سے محاربہ کیا ہے اور زمین میں وہ فساد پھیلانے میں تیزی سے سعی کر رہے ہیں، کوشش کر رہے ہیں کہ زمین کا امن اٹھ جائے ، ان کے لئے یہ سزا ہے کہ یا تو وہ قتل کئے جائیں یا وہ سولی چڑھائے جائیں یا مخالف سمتوں سے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے جائیں یا ان کو دیس نکالا دے دیا جائے۔یہ ان کے لئے دنیا میں بطور رسوائی کے ہوگا اور آخرت میں ان کے لئے عذاب عظیم مقدر ہے۔