اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 26

26 اور ایضاح کے ساتھ قرآن میں مذکور ہے کہ خدا سے ڈرنے والوں کے لئے اس میں تاویل کی ذرہ گنجائش نہیں“ گویا جو آیتیں میں نے تلاوت کر کے آپ کو سنائی ہیں ان میں (نعوذ بالله من ذلك) خدا سے ڈرنے والوں کے لئے بہت گنجائشیں موجود ہیں ،لیکن اس موقع میں کوئی گنجائش نہیں رہی۔نہ وہاں محاربہ ہے، نہ قطع طریق ، نہ کوئی دوسرا جرم۔صرف ارتداد اور تنہا ارتداد ہی وہ جرم ہے جس پر حق تعالیٰ نے ان کے بے دریغ قتل کا حکم دیا ہے۔۔۔۔۔66 یعنی مولوی صاحب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا تو کوئی واقعہ نہیں ملتا ( نہ ان کے نزدیک قرآن کریم بیان کرتا ہے )۔حضرت موسی کی قوم کا ایک واقعہ نظر آیا ہے جو قرآن نے بیان کیا ہے، اس پر یقتل مرتد کے عقیدے کی بناء ڈال رہے ہیں اور لکھتے ہیں : فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ “ میں ”اَنْفُسَكُمْ “ کے معنے وہی ہیں جو ثُمَّ انْتُمُ هَؤُلَاءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ “ میں ہیں۔اور قتل کو اپنے اصلی اور حقیقی معنے سے ( جو ہر طرح کے قتل کو خواہ لوہے سے ہو یا پتھر سے شامل ہے) پھیرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں۔۔۔۔۔۔اس حکم کا نتیجہ جیسا کہ روایات میں ہے یہ ہوا کہ کئی ہزار آدمی جرم ارتداد میں خدا کے حکم سے موسیٰ علیہ السلام کے سامنے قتل کئے گئے۔اور صورت حال یہ ہوئی کہ قوم میں سے جن لوگوں نے بچھڑے کو نہیں پوجا تھا ان میں سے ہر ایک نے اپنے اس عزیز و قریب کو جس نے گوسالہ پرستی کی تھی اپنے ہاتھ سے قتل کیا