اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 25
25 مشائخ کے مزعومہ قرآنی دلائل اب میں آپ کے سامنے علماء کے چند دلائل پیش کرتا ہوں، جو انہوں نے اپنے زعم میں قرآن کریم سے نکال کر نص صریح کے طور پر اپنے عقیدے کی تائید میں پیش کئے ہیں۔علماء کی پہلی دلیل پہلی مزعومہ طور پر مبینہ قرآنی دلیل جو علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی نے پیش کی ہے ان کی ایک ہی دلیل ہے۔وہ اپنے رسالہ ”الشہاب“ میں اپنے استدلال کی بنیاد اس آیت پر رکھتے ہیں: وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يُقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمُ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُوا إِلَى بَارِ بِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ عِنْدَ بَارِ بِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (البقرة : ۵۵) یعنی اے قوم بنی اسرائیل ! تو نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا تم اب خدا کی طرف رجوع کرو۔پھر اپنے آدمیوں کو قتل کرو۔اس آیت کا یہ ترجمہ کر کے اس کو قتل مرتد کے عقیدے کی تائید میں پیش کرتے ہوئے یہ تمہید باندھتے ہیں: یوں تو قرآن کریم کی بہت سی آیات ہیں جو مرتد کے قتل پر دلالت کرتی ہیں لیکن ایک واقعہ جماعت مرتدین کے بحکم خدا قتل کئے جانے کا ایسی تصریح