اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 20
20 نظر یقتل مرتد۔۔قرآن کریم کی روشنی میں اسلام جس شاندار مذہبی آزادی کی تعلیم دیتا ہے، اس کے متعلق چند آیات آپ کے سامنے رکھنے کے بعد میں ان دلائل کی طرف متوجہ ہوں گا جو قتل مرتد کے جواز میں علماء کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔قتل مرتد کے جواب میں پہلی آیت : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنَ بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انفِصَامَ لَهَا وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (البقرة: ۲۵۷) کہ دیکھو! دین کے معاملے میں کسی قسم کا جبر جائز نہیں اور اس کی ضرورت ہی نہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ ہدایت اور گمراہی کا فرق خوب ظاہر ہو چکا ہے۔قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ پس جو شخص اپنی مرضی سے نیکی سے روکنے والے کی بات ماننے سے انکار کرے اور اللہ پر ایمان رکھے اس نے ایک مضبوط، قابل اعتماد کڑے پر ہاتھ ڈال لیا جوٹوٹنے کا نہیں ، یاوہ ہاتھ اب اس کڑے کو چھوڑنے والا نہیں۔یہ ایک بہت ہی گہری حکمت کی بات پیش کرنے والی آیت ہے۔یہاں بالکل بر عکس مضمون بیان ہوا ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ تمہیں حق ہے کہ لوگوں کو ارتداد اختیار کرنے سے روکو۔فرمایا کسی کو حق نہیں ہے کہ تمہیں اپنا دین چھوڑنے پر