اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 16 of 155

اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت — Page 16

16 عامتہ الناس اگر اکٹھے ہو کر فیصلہ دیں گے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ہوسکتا ہے کہ مودودی صاحب کے ذہن میں یہ بات ہو کہ بڑے بڑے چوٹی کے علماء یہ حق رکھتے ہیں، اور وہ اسلامی فہم اور اسلامی ذوق رکھنے کی بناء پر مستند ہو جاتے ہیں، اس لئے چونکہ اس فیصلے میں اس قسم کے علماء بھی شامل تھے اس لئے اسکی حیثیت اور ہے۔یا ہو سکتا ہے کہ کوئی یہ خیال کرے کہ عامۃ الناس کی بات تو رد کی جائے گی کیونکہ اس قسم کے عامتہ الناس ہیں جیسے مودودی صاحب نے بیان فرمائے ہیں، لیکن ان کی منتخب نمائندہ اسمبلی کو تو بہر حال یہ حق حاصل ہونا چاہئے ، ان پر یہ فتویٰ جاری نہیں کیا جا سکتا۔تو ان دونوں باتوں کا جواب میں اپنے الفاظ میں دینے کی بجائے مولانا مودودی کے الفاظ ہی میں دیتا ہوں۔وہ پہلی بات کا جواب یہ دیتے ہیں: خواہ مغربی تعلیم و تربیت پائے ہوئے سیاسی لیڈر ہوں یا علماء دین ومفتیانِ شرع مبین (اس اسمبلی میں جس نے وہ تعریف منظور کی جس کی رو سے جماعت احمدیہ خارج از اسلام کہلاتی ہے وہاں یہ دو ہی قسم کے لوگ تھے۔ناقل) دونوں قسم کے راہنما اپنے نظریہ اور اپنی پالیسی کے لحاظ سے یکساں گم کردہ راہ ہیں۔دونوں راہ حق سے ہٹ کر تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں۔ان میں سے کسی کی نظر بھی مسلمان کی نظر نہیں“۔( مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم بار ششم صفحه : ۷۸،۷۷) جہاں تک اس وہم کا تعلق ہے کہ خواہ کیسے ہی ہوں، جب ان کو جمہوری قوت حاصل ہو جائے اور جمہور کی نمائندگی حاصل ہو جائے تو پھر ان کے فتوے لازماً چلنے چاہئیں ، پھر ان کی تعریف لازماً قابل قبول ہونی چاہئے۔تو اس کا جواب بھی مودودی صاحب کی زبان ہی میں آپ کو دیتا ہوں۔فرماتے ہیں: